پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
افغان وزارت صنعت و تجارت کے مطابق جنوری سے جون 2025 کے دوران دو طرفہ تجارت کا مجموعی حجم 98 کروڑ 89 لاکھ ڈالر رہا۔ اس میں افغانستان کی برآمدات کا حصہ 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا جبکہ پاکستان سے درآمدات کا حجم 71 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
افغانستان کی اہم برآمدات میں کپاس، کوئلہ، پیاز، ٹماٹر، کشمش، ماش کی دال اور ٹالک اسٹون شامل ہیں۔ دوسری جانب افغانستان نے پاکستان سے سیلا چاول، ادویات، چینی، کپاس کی مصنوعات اور فیکٹریوں کے خام مال کی بڑی مقدار درآمد کی۔
افغان وزارت صنعت و تجارت کے ترجمان عبدالسلام جواد کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے معاشی استحکام کیلئے نہایت اہم ہیں۔
افغانستان کے نشریاتی ادارے طلوع نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال کی اسی مدت کے مقابلے میں افغانستان کی پاکستان کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو ایک مثبت رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
افغان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے مطابق اس وقت تجارت چمن، اسپن بولدک، طورخم اور ڈنڈ پتان کے راستوں سے ہو رہی ہے، جبکہ غلام خان کا راستہ تاحال بند ہے جس کے باعث مکمل تجارتی صلاحیت استعمال نہیں ہو پارہی۔ چیمبر کے بورڈ ممبر خان جان الوکوزئی کے مطابق اس کے باوجود رواں سال کی تجارتی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہے۔
زرعی و لائیو اسٹاک چیمبر کے پہلے نائب صدر میرویس حاجی زادہ نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط مزید مضبوط بنائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان افغانستان کیلئے ایک اہم منڈی ہے، خاص طور پر زرعی مصنوعات کیلئے جو وہاں مقامی سطح پر دستیاب نہیں۔ اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعمیری رابطے اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔”