اسلام آباد | 24 جولائی 2025
سیاسی کشیدگی کے ماحول میں ایک خوشگوار سفارتی پیش رفت کے طور پر پاکستان اور افغانستان نے ایک ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) پر دستخط کر دیے ہیں، جو خطے میں معاشی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ اسلام آباد میں بدھ کے روز دو روزہ مذاکرات کے بعد طے پایا، جس کے تحت دونوں ممالک کچھ زرعی اجناس پر کسٹمز ڈیوٹیز میں 22 فیصد تک کمی کرنے پر متفق ہو گئے — جبکہ ان اشیاء پر اس وقت بعض اوقات 60 فیصد سے زائد محصولات عائد ہیں۔
محصولات میں کمی سے تجارت کے نئے امکانات
معاہدے پر افغانستان کے نائب وزیر صنعت و تجارت ملا احمداللہ زاہد اور پاکستان کے سیکرٹری تجارت جاوید پاؤل نے دستخط کیے۔ دونوں رہنماؤں نے اسے "تاریخی پیش رفت” قرار دیا جو ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی جہت دے سکتی ہے۔
یہ ایک سالہ معاہدہ یکم اگست 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کے تحت دونوں ممالک مخصوص پھلوں اور سبزیوں پر درآمدی محصولات میں نمایاں کمی کریں گے تاکہ سرحد پار تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
افغانستان کی جانب سے ٹماٹر، انگور، سیب اور انار پر محصولات میں کمی کی جائے گی، جبکہ پاکستان کو آم، کینو، کیلا اور آلو کی برآمدات پر ریایت دی جائے گی۔
مقدار کی بنیاد پر رعایتی محصولات
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق افغان ٹماٹروں پر پاکستان میں 22 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، جو کہ 4 لاکھ ٹن کی مقدار تک محدود ہوگی۔ اسی طرح انگور (2.3 لاکھ ٹن)، سیب اور انار (1 لاکھ ٹن فی کس) پر 27 فیصد ڈیوٹی لگائی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان کی برآمدات میں شامل آلو (4 لاکھ ٹن) پر 22 فیصد، جبکہ کینو، کیلا اور آم پر 27 فیصد محصولات طے کیے گئے ہیں۔
کشیدہ سیاسی تعلقات کے باوجود مثبت پیش رفت
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی افغان سرزمین پر موجودگی اور اس کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان اختلافات کے باوجود، دونوں ممالک نے معاشی مفاد کو فوقیت دیتے ہوئے باہمی تعاون کا دروازہ کھولا ہے۔
پاکستانی وفد کے ایک سینئر رکن نے اس معاہدے کو "ون-ون صورتحال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ دونوں ممالک کی زرعی معیشت اور تجارتی روابط کے تناظر میں ایک حقیقت پسندانہ قدم ہے۔”
ابتدائی مرحلے کا پروگرام (Early Harvest Programme)
تعاون کو باقاعدہ بنانے کے لیے معاہدے کے تحت ایک ابتدائی مرحلہ جاتی پروگرام (Early Harvest Programme) بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو مستقبل میں کسی ممکنہ آزاد تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کرے گا۔
اس پروگرام کی نگرانی کے لیے PTA عملدرآمد کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں دونوں ممالک کی کسٹمز اور زرعی وزارتوں کے نمائندگان شامل ہوں گے۔ کمیٹی ہر ماہ اجلاس کرے گی، تجارتی پیش رفت کا جائزہ لے گی، اور اگر ضروری ہو تو پالیسی میں ترامیم کی سفارش کرے گی۔
تصدیق اور قواعدِ اصل (Rules of Origin)
معاہدے میں اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ برآمد ہونے والی اشیاء کی اصل (origin) کی درست تصدیق کی جائے۔ پاکستانی مصنوعات کے لیے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) سرٹیفکیٹ آف اوریجن جاری کرے گی، جبکہ افغان مصنوعات کی تصدیق افغان وزارت صنعت و تجارت کرے گی۔
مستقبل کی راہ
فی الوقت یہ معاہدہ صرف آٹھ زرعی اشیاء پر مرکوز ہے، لیکن دونوں جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلے کے کامیاب نفاذ کی صورت میں فہرست میں مزید اشیاء شامل کی جا سکتی ہیں۔
یہ محض محصولات میں کمی کا معاہدہ نہیں، بلکہ اعتماد کی بحالی، خطے کی معیشت کو تقویت دینے، اور تنازع سے بھرے ایک خطے میں مثبت تعاون کی امید جگانے کی کوشش بھی ہے۔