بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری آئی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے واضح کیا ہے کہ ورک ویزہ پر سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے کوئی نیا حلف نامہ یا اضافی شرط عائد نہیں کی گئی۔
یہ وضاحت وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی چوہدری صالح حسین کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس کے دوران ایف آئی اے نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیرونِ ملک جانے والوں کے لیے گریڈ 18 یا 19 کے افسر سے دستخط شدہ حلف نامہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ادارے نے کہا کہ ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل رفعت مختار نے اعتراف کیا کہ حال ہی میں لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر کچھ مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی انکوائری جاری ہے اور جو بھی اہلکار اس میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر صالح حسین نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے بھیجے گئے زرمبادلہ سے ملک کو بڑا سہارا ملتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کسی بھی ایسے مسافر کو، جس کے پاس درست ورک ویزہ یا پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ موجود ہو، غیر ضروری طور پر روکا نہ جائے۔
یہ وضاحت سامنے آنے کے بعد بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں اور ٹریول ایجنٹس نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ایف آئی اے نے یقین دلایا ہے کہ ادارہ شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر قائم رہے گا، اور حقیقی مسافروں کو ایئرپورٹس پر ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی رہے گی۔