شینزن – 24 جون:
چین کے معروف جینیاتی تحقیقی ادارے "بیجنگ جینومکس انسٹیٹیوٹ” (BGI) نے پاکستان کے نوجوان سائنسدانوں کو تربیت دینے اور ملک کے صحت کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر بنانے کے لیے تعاون کا اعلان کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ” (BRISD) کے چیئرمین قیصر نواب نے BGI کے شینزن میں واقع ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر دونوں فریقین کے درمیان حیاتیاتی ٹیکنالوجی، صحت میں جدت، اور سائنسی صلاحیت کو فروغ دینے کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
قیصر نواب کا BGI پہنچنے پر پرجوش استقبال کیا گیا، جہاں انہیں ادارے کے جنوبی ایشیا امور کے انچارج، ماو ژی شیا نے BGI کے ابتدائی سفر سے لے کر دنیا کے سب سے بڑے جینومکس ریسرچ ادارہ بننے تک کی کہانی سنائی۔ انہوں نے BGI کی جین سیکوینسنگ، پریسجن میڈیسن، جدید تشخیصی سہولیات، اور عالمی وباؤں سے نمٹنے کے حوالے سے کی جانے والی انقلابی کوششوں پر روشنی ڈالی۔
دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک باقاعدہ فریم ورک کے تحت پاکستان اور بی آر آئی (BRI) ممالک کے نوجوان سائنسدانوں کے لیے تربیتی پروگرامز شروع کیے جائیں، تاکہ وہ صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تحقیق اور جدت کو اپنے ملکوں میں فروغ دے سکیں۔
قیصر نواب نے اس موقع پر کہا:
"سائنس اور ٹیکنالوجی کو سب کے لیے قابلِ رسائی ہونا چاہیے۔ ہمیں گلوبل ساؤتھ کے نوجوان محققین کو بااختیار بنانا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں۔”
انہوں نے BRISD کے وژن پر زور دیا، جو پائیدار اور مساوی ترقی کو فروغ دینے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔
دورے کے دوران قیصر نواب نے پاکستان کی صحت کے شعبے میں ایک اور قابلِ فخر کامیابی کا ذکر بھی کیا — ملک کا پہلا ورچوئل بلڈ بینک سینٹر، جو ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو قریبی خون عطیہ کرنے والوں سے جوڑتا ہے۔ اس نظام کے تحت کوئی بھی شخص ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے آپشن 4 دبائے، تو وہ ایک محفوظ کال کے ذریعے رجسٹرڈ ڈونرز سے منسلک ہو جاتا ہے۔ اس وقت تک تقریباً 30,000 خون دینے والے اس پلیٹ فارم پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ خون عطیہ کرنے جیسے نیک مقصد کا حصہ بنیں۔
"ہر قطرہ قیمتی ہے۔ ایک عطیہ کسی کی زندگی بچا سکتا ہے،” نواب نے کہا۔
آخر میں قیصر نواب نے BGI کو ایک ایسی مثال قرار دیا، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر سچائی، جدت اور علم کو مقصد بنایا جائے تو وہ دنیا کو بدل سکتا ہے۔
"BGI سائنس اور انسانیت کے لیے ایک روشن مثال ہے،” انہوں نے کہا۔
BGI اور BRISD کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف پاکستان اور چین کے تعلقات کو مضبوط کرے گی بلکہ ترقی پذیر ممالک میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کی عالمی کوششوں کو بھی تقویت دے گی۔