پاکستان، انڈونیشیا کا دفاعی تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

اسلام آباد:
پاکستان اور انڈونیشیا نے دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور خاص طور پر دفاعی پیداوار میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

انڈونیشیا کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سجیفری سجامسودین ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ منگل کو انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے وزیر اعظم آفس میں ملاقات کی، جس دوران انہوں نے صدر پرابوو سبیانتو کی جانب سے وزیر اعظم اور پاکستانی عوام کیلئے نیک خواہشات پہنچائیں۔

انڈونیشی وزیر دفاع نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات تلاش کرنے میں اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کی اس پیشکش کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان نہ صرف دفاع کے شعبے میں بلکہ معاشی، تزویراتی (اسٹریٹیجک) اور تجارتی شعبوں میں بھی انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کیلئے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا دیرینہ دوست ہیں جن کے تعلقات ثقافتی، مذہبی اور تاریخی اقدار میں جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی فائدے کیلئے کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے گزشتہ سال قاہرہ میں ڈیولپنگ 8 سمٹ کے موقع پر صدر پرابوو سبیانتو سے ہونے والی اپنی ملاقات کا بھی ذکر کیا اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور انہیں تیز رفتاری سے آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

بعد ازاں انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔ ان کے ہمراہ انڈونیشیا کی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سینئر حکام کا وفد بھی موجود تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں علاقائی سکیورٹی، دفاعی تعاون اور فوجی سطح پر روابط بڑھانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے باہمی تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

انڈونیشین وزیر دفاع نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان آرمی کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ فوجی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

یہ ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات اخوت، بھائی چارے اور دیرینہ اعتماد پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک علاقائی امن، ترقی اور اسٹریٹیجک شراکت داری کے مشترکہ وژن کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہیں۔

More From Author

کراچی: ڈرم سے ملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل، اہم انکشافات سامنے آگئے

ملک گیر احتجاج کے معاملے پر تحریک انصاف میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے