پاسپورٹ درخواست دہندگان کے لیے سہولتوں میں نمایاں اضافہ، سالانہ رپورٹ جاری

اسلام آباد: نادرا کے زیرانتظام ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو دی جانے والی سہولتوں اور محکمے کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان بھر میں 232 اور دنیا کے مختلف ممالک میں 93 پاسپورٹ دفاتر کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ 17 برسوں میں اوسطاً سالانہ 34 لاکھ اور مجموعی طور پر 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد پاسپورٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں یہ تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث سالانہ 67 لاکھ پاسپورٹ جاری کیے گئے، جن کی مجموعی تعداد 1 کروڑ 30 لاکھ بنتی ہے۔

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے آن لائن سہولت

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی سہولت فراہم کرنے کے لیے آن لائن پاسپورٹ سروس کا دائرہ بڑھایا گیا ہے، اور گزشتہ سال 1 لاکھ 30 ہزار 318 اوورسیز پاکستانیوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

ای-پاسپورٹ، ای-گیٹ اور موبائل ایپ کی اپ گریڈیشن

ڈی جی پاسپورٹ مصطفیٰ جمال قاضی کے مطابق پورے ملک میں ای-پاسپورٹ سسٹم کو ای-گیٹ ٹیکنالوجی سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ عالمی معیار کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ ساتھ ہی پاسپورٹ موبائل ایپ کو بھی اپڈیٹ کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو درخواست کے مراحل میں مزید آسانی ہو۔

ریونیو، سیکیورٹی اور جدید انفرااسٹرکچر

محکمے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 16 برسوں میں پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے 295.7 ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع کرائے، جبکہ صرف گزشتہ دو سالوں میں سالانہ 40 ارب روپے کی خطیر رقم جمع ہوئی — جو پچھلے سالوں کی نسبت دگنی ہے۔

پاسپورٹ کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے جدید سیکیورٹی فیچرز اور انفرااسٹرکچر اپگریڈز کیے گئے، 32 نئے پاسپورٹ کاؤنٹرز قائم کیے گئے، اور تمام صوبائی اسمبلیوں اور بار کونسلز میں بھی کاؤنٹرز فراہم کیے گئے۔

24/7 خدمات اور جدید مشینری کی فراہمی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں چوبیس گھنٹے پاسپورٹ جاری کرنے کی سہولت دستیاب کر دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے 10 جدید پرنٹرز اور 6 لیمینیٹر مشینیں خریدی گئیں تاکہ تاخیر کے بغیر پاسپورٹ کی چھپائی ممکن ہو۔

شہری شکایات کا فوری ازالہ

ڈی جی پاسپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے دوران وزیراعظم پرفارمنس ڈیلیوری یونٹ (PMDU) کو موصول ہونے والی 73,700 شکایات کا حل نکالا گیا، جو محکمے کی کارکردگی اور عوامی اطمینان کی نشاندہی کرتا ہے۔

شہریوں کو سہولت، حکومت کی ترجیح

رپورٹ کے اختتام پر ڈی جی مصطفیٰ جمال قاضی نے کہا کہ “بیگ لاک سسٹم کے خاتمے کے بعد چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔”

More From Author

ٹی ٹی پی پاکستان کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کا انتباہ

پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں پر ای-گیٹس لگانے کی تیاری مکمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے