اسلام آباد – 7 اگست 2025:
ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تاجروں کی گرفتاری سے متعلق قوانین میں جامع اور نمایاں تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد کی جانب سے جعلی یا "اڑتی ہوئی” انوائسز کے ذریعے ٹیکس چوری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے نئے ضابطے ترتیب دیے گئے ہیں — جو کئی برسوں سے ملکی ریونیو نظام کو نقصان پہنچا رہے تھے۔
نئے طریقہ کار کے تحت، کسی بھی تاجر یا کاروباری شخصیت پر ٹیکس فراڈ کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں ان کا رجسٹریشن معطل کیا جائے گا، اور شواہد کی بنیاد پر انہیں بلیک لسٹ بھی کیا جا سکے گا۔ تاہم، بلیک لسٹ کرنے سے قبل سات دن کے اندر شوکاز نوٹس جاری کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ اب کسی تاجر کو گرفتار کرنے سے قبل متعلقہ تجارتی تنظیم سے مشاورت کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کم از کم دو نمائندوں کی رائے شامل کی جائے گی تاکہ فیصلہ شفاف اور منصفانہ ہو۔
نئی پالیسی کے تحت ایف بی آر کے اسیسمنٹ پروسیسنگ سیل کی جانب سے مشتبہ انوائسز کی نشاندہی کی جائے گی، جس کے بعد کم از کم دو افسران اس ڈیٹا کا جائزہ لیں گے۔ اس جائزے میں خرید و فروخت کی تفصیلات، جمع شدہ ٹیکس گوشوارے، اور ان میں موجود تضادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
کسی بھی تاجر کے خلاف انکوائری کی اجازت صرف کمشنر ان لینڈ ریونیو دے سکے گا، جبکہ گرفتاری سے پہلے ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز سے باقاعدہ منظوری لینا لازم ہوگی — تاکہ کسی بھی انتقامی یا غیر ضروری کارروائی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
ایف بی آر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کارروائی صرف تاجروں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اگر کوئی سرکاری اہلکار یا ادارے کا اندرونی فرد ٹیکس فراڈ میں ملوث پایا گیا، تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صرف قانون نافذ کرنا نہیں، بلکہ ایک شفاف اور قابلِ بھروسا ٹیکس نظام کو فروغ دینا ہے — تاکہ کاروباری طبقہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے اور کرپشن کے عناصر کی بیخ کنی کی جا سکے۔ ایف بی آر کی جانب سے ان اصلاحات کے بعد ملک بھر کی کاروباری برادری کی نظریں اب اس پر ہوں گی کہ ادارہ قانون نافذ کرنے اور انصاف کے درمیان کس قدر متوازن پالیسی اپناتا ہے