ٹیکساس میں سیلاب کی تباہی شدت اختیار کرگئی: ہلاکتیں 119 تک پہنچ گئیں، 160 سے زائد افراد لاپتہ

ہنٹ، ٹیکساس: 4 جولائی کے اختتام ہفتہ کے دوران وسطی ٹیکساس میں آنے والے ہولناک فلیش فلڈز کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 119 تک جا پہنچی ہے، جبکہ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ 160 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

کر کاؤنٹی، جو اس آفت کا مرکز بنا، وہاں کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 36 بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت امدادی کارروائیاں نہ کی جاتیں تو تباہی کی شدت کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔

شیرف لیری لیتھا نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا، ’’ہم صرف کر کاؤنٹی میں 161 افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،‘‘ ان کے ساتھ امدادی ٹیموں کے تھکے ہارے رضاکار اور اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین خاندان بھی موجود تھے۔

لاپتہ افراد میں کیمپ مسٹک نامی گرمیوں کے کیمپ کے بچے اور عملہ بھی شامل ہے، جو گواڈیلوپ دریا کی طغیانی کے دوران اچانک لاپتہ ہو گئے۔ پانچ کیمپرز اور ایک کونسلر تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ ایک اور بچہ جو کیمپ کا حصہ نہیں تھا، وہ بھی لاپتہ ہے۔

ریاست کے دیگر حصوں میں بھی مزید 24 افراد کی اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے امدادی ٹیمیں ہیلی کاپٹروں، ڈرونز، سرچ ڈاگز اور سینکڑوں رضاکاروں کی مدد سے ملبے میں چھان بین کر رہی ہیں، ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

بین بیکر، جو ٹیکساس گیم وارڈنز سے وابستہ ہیں، کا کہنا تھا، ’’یہ ایک مکمل قومی ہنگامی صورتحال ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کیچڑ، ملبہ اور پھنسی ہوئی چیزیں امدادی کارروائیوں کو نہایت خطرناک بنا رہی ہیں۔

’’یہ ملبے کے ڈھیر صرف بڑے نہیں بلکہ خطرناک بھی ہیں — ان کے اندر جانا اور وہاں کام کرنا انتہائی خطرناک ہے،‘‘ بین بیکر نے کہا۔


سوگ میں ڈوبا ہوا علاقہ

ہل کنٹری ریجن، جسے اکثر "فلیش فلڈ ایلی” کہا جاتا ہے، تیز بارشوں سے اچانک آنے والے سیلابوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ تاہم اس بار کی آفت، جو شدید گرمی اور طویل خشک سالی کے بعد آئی، نے پورے علاقے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔

ہنٹ کے علاقے میں 24 سالہ جیویئر ٹوریس کو کیچڑ میں اپنی نانی کی تلاش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس سے کچھ ہی دیر قبل وہ اپنے دادا کی لاش تلاش کر چکے تھے۔ تلاش کے دوران، انہوں نے دو بچوں کی لاشیں بھی دریافت کیں، جو غالباً پانی کے ریلے میں بہہ کر وہاں آ گئیں تھیں۔

’’یہ سب کسی بھیانک خواب جیسا لگ رہا ہے،‘‘ انہوں نے آنکھوں میں آنسو اور کیچڑ میں لت پت ہاتھوں کے ساتھ میڈیا کو بتایا۔


حکومتی ردعمل اور تنقید

افسوس اور غم کے ان لمحات میں، امدادی اقدامات کی سست روی اور تیاری کی کمی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں — خاص طور پر یہ کہ کیا وفاقی فنڈنگ میں کٹوتیوں نے اس تباہی کی شدت کو بڑھاوا دیا؟

منگل اور بدھ کو ہونے والی پریس کانفرنسز میں، حکام نے ابتدائی الرٹ سسٹم کی ناکامی پر براہ راست سوالات سے گریز کیا۔ شیرف لیتھا نے وعدہ کیا کہ واقعے کے بعد ایک مکمل "آفٹر ایکشن ریویو” کیا جائے گا۔

’’یہ مشکل سوالات ہیں، اور ان کے جوابات ضروری ہیں — لیکن اس وقت ہماری توجہ صرف لاپتہ افراد کو تلاش کرنے پر ہے،‘‘ شیرف نے کہا۔

دوسری جانب کچھ حکام کا کہنا ہے کہ اگر مقامی پولیس اور رضاکار گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر لوگوں کو نہ جگاتے، یا کھڑکیوں سے نکال کر نہ نکالتے، تو اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔

گورنر گریگ ایبٹ نے ریاست بھر میں پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ جمعہ کے روز متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔

’’ہم نے تمام ریاستوں سے ہیلی کاپٹرز منگوائے — وہ پروفیشنل لوگ تھے، اور انہوں نے درجنوں افراد کو بچایا،‘‘ صدر ٹرمپ نے کہا۔


موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی عوامل

نیشنل ویدر سروس (NWS) نے خبردار کیا ہے کہ اگلے چند دنوں میں مزید بارشیں اور آندھیاں آ سکتی ہیں، جو جاری امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید خشک سالی اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اس تباہی کی شدت کی بڑی وجہ بنا۔

’’جب زمین بہت زیادہ خشک ہو جائے، تو بارش کا پانی جذب ہونے کے بجائے سیدھا بہہ جاتا ہے،‘‘ شیلف ونکلی، کلائمٹ سینٹرل کے ماہر نے بتایا۔ ’’اس بار قدرتی عوامل کی تمام خطرناک شکلیں ایک ساتھ آ گئیں۔‘‘

ادھر نیومیکسیکو کے شہر روئیڈوسو میں بھی شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جہاں دریا کی سطح 20 فٹ تک بلند ہو گئی، جو مقامی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔

More From Author

شفیق اکبر کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر برطانوی پارلیمنٹ میں اعزاز سے نوازا گیا

غزہ پر اسرائیلی حملوں پر تنقید، امریکی پابندیاں اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی ماہر پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے