واشنگٹن – 6 اگست 2025:
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ملک کے بڑے مالیاتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جے پی مورگن چیس اور بینک آف امریکہ جیسے بڑے بینک ان کے اور ان کے حامیوں کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کر رہے ہیں۔ منگل کے روز CNBC کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان بینکوں نے ان کی بڑی مالی رقوم کو رکھنے سے انکار کر دیا، جو ان کے بقول قدامت پسندوں کو نشانہ بنانے کی منظم کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا:
"یہ مکمل امتیاز ہے، میرے خیال میں سب سے زیادہ میرے ساتھ — لیکن یہ قدامت پسندوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔”
یہ دعویٰ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ وائٹ ہاؤس ایک ایگزیکٹو آرڈر تیار کر رہا ہے جو بینکوں کو "سیاسی بنیادوں پر اکاؤنٹس بند کرنے” جیسے اقدامات سے روکنے کے لیے ریگولیٹرز کو متحرک کرے گا۔ رائٹرز کے مطابق، یہ حکم بدھ کے روز متوقع ہے۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ صدارت کے بعد، جے پی مورگن نے ان سے کہا کہ وہ اپنی بڑی رقم کے اکاؤنٹس صرف 20 دن میں بند کر دیں۔
"میرے پاس سینکڑوں ملین ڈالر تھے، کئی اکاؤنٹس بھری ہوئی رقم کے ساتھ… اور انہوں نے کہا، ‘معذرت سر، ہم آپ کو نہیں رکھ سکتے’۔”
انہوں نے کہا کہ بینک آف امریکہ نے بھی ان کے ڈپازٹس لینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد انہوں نے کئی چھوٹے بینکوں میں اپنی رقم تقسیم کر دی۔
"میں نے آخرکار چھوٹے بینکوں کا رخ کیا، ہر جگہ $10 ملین، $12 ملین کر کے ڈالے۔”
بینکوں کا جواب
جے پی مورگن اور بینک آف امریکہ نے ٹرمپ کے دعووں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم جے پی مورگن نے ایک بیان میں کہا:
"ہم سیاسی بنیادوں پر اکاؤنٹس بند نہیں کرتے، اور ہم صدر ٹرمپ سے اتفاق کرتے ہیں کہ ریگولیٹری نظام میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔”
ریپیوٹیشن یا ریگولیشن؟
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ پیش آنے والے بینکاری مسائل کا تعلق شاید سیاسی وابستگی سے کم اور "ریپیوٹیشنل رسک” سے زیادہ ہے — یعنی وہ بدنامی کا خطرہ جو کسی متنازعہ شخصیت سے تعلق کی وجہ سے ادارے کو ہو سکتا ہے۔
فیڈرل ریزرو نے حال ہی میں ہدایت دی ہے کہ بینکوں کے نگران ادارے ریپیوٹیشنل رسک کو جانچ کا پیمانہ نہ بنائیں، مگر اس سے پہلے یہ میٹرک خاصی تنقید کی زد میں رہا ہے۔
رائٹرز کے ایک ذریعے کے مطابق، متوقع ایگزیکٹو آرڈر بینکوں کی جانچ کے لیے ریگولیٹرز کو فعال کرے گا کہ آیا وہ Equal Credit Opportunity Act یا Antitrust Laws کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں مالی جرمانے یا قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
بینکاری ماہر مائیک مایو نے کہا:
"وائٹ ہاؤس دراصل یہ پیغام دے رہا ہے کہ بینک قوانین کے پیچھے چھپ کر سیاسی بنیاد پر خدمات دینے سے انکار نہ کریں۔ اگر وہ کسی کو سروس نہ دینا چاہیں تو یہ انڈر رائٹنگ کی بنیاد پر ہو، نہ کہ سیاسی دباؤ یا بدنامی کے ڈر پر۔”
ٹرمپ بمقابلہ بینکاری ادارے
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ نے بڑے مالیاتی اداروں کو نشانہ بنایا ہو۔ رواں سال کے آغاز میں بھی انہوں نے جے پی مورگن اور بینک آف امریکہ کے سی ای اوز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ قدامت پسندوں کو سروسز فراہم نہیں کرتے — جس سے دونوں اداروں نے انکار کیا۔
جے پی مورگن کے قریبی ذرائع کے مطابق، بینک اب بھی ٹرمپ خاندان کے کئی افراد اور ان کی انتخابی مہم سے وابستہ اکاؤنٹس کے ساتھ کام کر رہا ہے، لیکن قانونی دباؤ اور ساکھ کے مسائل کے باعث کچھ فیصلے لینے پڑے۔
بینک آف امریکہ کا کہنا تھا کہ وہ ریگولیٹری پالیسیوں کی وضاحت کے لیے انتظامیہ کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے:
"ہم نے تجاویز دی ہیں اور انتظامیہ و کانگریس کے ساتھ ریگولیٹری نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔” جیسے جیسے ٹرمپ 2024 کی انتخابی مہم میں زور پکڑ رہے ہیں، ان کی یہ لڑائی وال اسٹریٹ کے ساتھ سیاسی آزادی، مالی خودمختاری، اور کارپوریٹ غیرجانبداری جیسے بڑے قومی مباحثوں کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے