کہا: "امریکہ نے اسرائیل کو بچایا، اب نیتن یاہو کو بھی بچائے گا” – مقدمے کو سیاسی ‘وِچ ہنٹ’ قرار دے دیا
واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر جاری بدعنوانی کا مقدمہ فوری طور پر ختم کیا جائے یا انہیں معاف کر دیا جائے۔ انہوں نے نیتن یاہو کو "ایک عظیم ہیرو” اور "جنگجو” قرار دیا۔
بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا:
"نیتن یاہو کا مقدمہ فوراً ختم ہونا چاہیے، یا اس عظیم ہیرو کو معافی دی جانی چاہیے جس نے ریاستِ اسرائیل کے لیے اتنا کچھ کیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح امریکہ نے اسرائیل کو بچایا، اسی طرح اب وہ نیتن یاہو کو بھی بچائے گا۔
یہ بیان نیتن یاہو کے ان مقدمات کے پس منظر میں آیا ہے جو 2020 سے زیرِ سماعت ہیں اور جن میں انہیں 2019 میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کے غلط استعمال کے الزامات پر فردِ جرم کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو ان الزامات کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔ ان کا مقدمہ اس وقت تل ابیب کی عدالت میں جرح کے مرحلے میں ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کارروائی کم از کم ایک سال تک جاری رہے گی۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو آئینی طور پر معافی دینے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اسرائیلی میڈیا کے مطابق اب تک ایسی کوئی درخواست پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی معافی اس وقت زیرِ غور ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان میں امریکہ کی اسرائیل کے لیے فوجی اور سفارتی حمایت، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اقدامات، کا بھی حوالہ شامل تھا۔
"امریکہ نے اسرائیل کو بچایا تھا، اور اب وہ نیتن یاہو کو بچائے گا،” ٹرمپ نے کہا۔
انہوں نے نیتن یاہو کے مقدمے کو "وِچ ہنٹ” یعنی سیاسی انتقام کا شکار قرار دیا — یہ وہی اصطلاح ہے جو ٹرمپ اپنے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل ہی ٹرمپ نے اسرائیل پر شدید تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے فوراً بعد اسرائیل نے زبردست بمباری کی —
"معاہدہ ہوتے ہی انہوں نے اتنے بم گرائے جتنے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے… میں اسرائیل سے خوش نہیں ہوں،” ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا۔
انہوں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"یہ اتنے عرصے سے لڑ رہے ہیں کہ اب انہیں خود بھی نہیں پتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔” ٹرمپ کے ان متضاد بیانات — ایک طرف سخت تنقید اور دوسری طرف مکمل حمایت — نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کی سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان نہ صرف حیران کن طور پر دوٹوک تھا بلکہ اس نے نیتن یاہو کے دفاع میں ٹرمپ کی ذاتی وابستگی کو بھی نمایاں کر دیا