وزیر اعظم کی ایف بی آر کو ٹیکس فائلرز کیلئے ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت

آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ٹیکس نظام کی کامیابی کو بھی سراہا

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی ہے کہ شہریوں کی سہولت کیلئے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں مدد فراہم کرنے کیلئے فوری طور پر ایک خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور غریب طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن، آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ٹیکس اسیسمنٹ سسٹم کے نفاذ اور دیگر اصلاحات کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اردو میں آسان ٹیکس ریٹرن فارم کی دستیابی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کا نظام بھی اردو زبان میں متعارف کرایا جائے تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولت مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ٹیکس اصلاحات کا محور ہمیشہ عوام کی آسانی ہونی چاہیے۔”

انہوں نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کی تمام اصلاحات کی شفافیت یقینی بنانے کیلئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ریٹرنز کو انتہائی آسان، مختصر اور مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سہولت ملے۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات سے سب سے زیادہ فائدہ تنخواہ دار طبقے کو پہنچے گا۔

وزیر اعظم نے حکام کو ہدایت دی کہ نئے نظام کے تحت ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں آسانی کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ڈیجیٹل انوائسنگ کے نظام میں شامل ہونے کیلئے خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔

اسی روز وزیر اعظم نے کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ معیشت میں شفافیت لانے کیلئے ڈیجیٹل نظام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے عوام اور عوام سے حکومت تک ادائیگیوں کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ صارفین کو بھی سہولت میسر آئے گی۔

انہوں نے ہدایت کی کہ کیش لیس اور ڈیجیٹل نظام کو چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کیلئے مزید آسان بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ‘راست’ (ملک کے فوری ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام) کے بورڈ آف گورنرز اور چیئرمین کی تقرری ستمبر تک مکمل کی جائے اور اس میں معیشت و بزنس کے ماہرین کو شامل کیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ تمام سرکاری اداروں کو بھی ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں شامل کیا جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے تاریخی 1 لاکھ 35 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروباری طبقے کے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مثبت معاشی اشاریے ثابت کر رہے ہیں کہ حکومت درست سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

More From Author

 ڈپٹی وزیراعظم کی سرمایہ کاری کے فوائد بڑھانے کیلئے ادارہ جاتی ہم آہنگی پر زور

عمران خان نے بیرون ملک آرام دہ زندگی کے بجائے جیل کو چُنا، بیٹے قاسم کا بیان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے