اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ ماہ چین کا اہم دورہ کرنے والے ہیں، جس میں وہ اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنا اور خطے کی حالیہ صورتحال، بالخصوص بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی جھڑپ کا جائزہ لینا ہے۔
سرکاری ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہوں گے۔ دورے کی حتمی تاریخیں سفارتی ذرائع سے طے کی جارہی ہیں تاہم امکان ہے کہ یہ اگست میں ہوگا۔
پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت کا یہ مشترکہ دورہ خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ بھارت کے ساتھ رواں سال ہونے والی مختصر مگر شدید چار روزہ لڑائی کے بعد ہورہا ہے، جس میں اطلاعات کے مطابق پاکستان ایئر فورس نے بھارت کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے تھے، جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل بھی شامل تھا۔
مئی کی اس جھڑپ نے مغربی دارالحکومتوں کی توجہ پاکستان کو دفاعی سازوسامان فراہم کرنے والے چین پر مرکوز کر دی۔ اس دوران چینی ساختہ جے 10 سی طیارے اور جدید PL-15 میزائل اہم کردار ادا کرتے رہے۔ تاہم پاکستانی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر نظام کی انضمام صلاحیت اور آپریشنل منصوبہ بندی نے چینی ہتھیاروں کو مزید مؤثر بنایا۔
حال ہی میں چین کی ایئر فورس کے سربراہ نے پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستانی ایئر فورس کے جنگی تجربے اور کثیر جہتی آپریشنل مہارت میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
ادھر بھارت کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف نے حالیہ بیان میں اس لڑائی کو “دو محاذوں کی جنگ” قرار دیا، جس میں بالواسطہ طور پر چین کے کردار کا اشارہ بھی دیا گیا۔ اس بارے میں پوچھے جانے پر ایک سینئر چینی عہدیدار نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون گہرا ہے، لیکن بیجنگ نہیں چاہتا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان اپنی 80 فیصد دفاعی ضروریات چین سے پوری کرتا ہے۔ تاہم حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس میں جنرل عاصم منیر نے واضح کیا کہ مئی کی لڑائی “بلا شبہ دو طرفہ” تھی۔
دوسری جانب وزیر اعظم کے دورے سے قبل نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار رواں ہفتے چین جائیں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار 14 سے 16 جولائی تک چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر ہورہا ہے۔
اس اجلاس میں پاکستان، چین، بھارت، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے جبکہ بیلاروس پہلی مرتبہ مکمل رکن کی حیثیت سے شریک ہوگا۔
ایس سی او کے ڈھانچے میں وزرائے خارجہ کونسل فیصلہ سازی کے اعتبار سے تیسرا اہم فورم ہے، جہاں خارجہ و سلامتی پالیسی کے امور پر غور ہوتا ہے اور اہم دستاویزات، اعلانات اور فیصلے حتمی شکل دیے جاتے ہیں، جنہیں بعد ازاں سربراہان مملکت کی کونسل (CHS) میں منظوری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ اگلا سربراہ اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر 2025 تک تیانجن میں ہوگا۔ اپنے دورے کے دوران اسحاق ڈار مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے