وزیرِاعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان

اسلام آباد:
وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز ملک گیر مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دریاؤں، نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیرِاعظم نے زور دیا کہ پانی کے قدرتی راستوں کا تحفظ آئندہ سیلابی تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اسلام آباد میں جاری مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے ہنگامی امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ طویل المدتی حفاظتی اقدامات پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی مدد کرنا محض حکومت نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔

وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف نے وزارتِ آبی وسائل کو ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو تباہ شدہ واٹر سپلائی نظام کی بحالی میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "ریلیف اور ریسکیو اولین ترجیح ہے لیکن بحالی کا عمل بھی فوراً شروع ہونا چاہیے۔”

وزیرِاعظم نے وفاقی وزرا اور سیکریٹریز کو متاثرہ اضلاع میں تعینات کرنے کی ہدایت دی تاکہ امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کی جا سکے۔ انہوں نے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ بروقت وارننگ جاری کی جائے اور خطرے سے دوچار علاقوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔

گلگت بلتستان پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے بننے والی مصنوعی جھیل کے حوالے سے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو معاملے کی قریبی نگرانی کرنے اور مقامی آبادی کی پیشگی انخلا کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آرمی اور ایف سی این اے کے انجینئرنگ یونٹس کو فوری طور پر متحرک کیا جائے تاکہ جھیل کو محفوظ طریقے سے خالی کیا جا سکے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ اجلاس کو دریاؤں میں پانی کے بہاؤ، گلیشیائی خطرات اور شمالی و جنوبی علاقوں کی موسمی پیشگوئیوں پر بریفنگ دی گئی۔ وزیرِاطلاعات نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ملک بھر میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے مرکزی رابطہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے

More From Author

فیلڈ مارشل منیر اور چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کی خطے میں امن کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار

کراچی نے 3 ہزار 256 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا، لیکن شہر کو کچھ نہیں ملا: منعم ظفر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے