اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ہمراہ، منگل کو بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، جو ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔ یہ ملاقاتیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے محتاط انداز کو ظاہر کرتی ہیں، جو عالمی طاقتوں کے درمیان باہمی فائدے پر مبنی تعلقات قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی پوزیشن کو عالمی منظرنامے پر ایک قابل اعتماد ساتھی کے طور پر مضبوط بنا رہا ہے۔
” آہنی دوستی” کی مضبوط توثیق
وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وفد نے، جس میں وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات بھی شامل تھے، صبح کے وقت ‘گریٹ ہال آف دی پیپل’ میں صدر شی جن پنگ سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات کا وقت خاصا اہم ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور بھارت چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ملاقات نے ان تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا کہ اسلام آباد کا واشنگٹن کی طرف جھکاؤ کہیں پاکستان اور چین کے تعلقات میں دراڑ نہ ڈال دے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے اپنی "آہنی دوستی” کی توثیق کی اور تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عزم کیا۔ وزیر اعظم شہباز نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی طاقت پاکستان اور چین کے مضبوط رشتے کو ہلا نہیں سکتی۔ چین کی وزارت خارجہ نے بھی اس جذبے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا رشتہ تاریخ کے کئی نشیب و فراز سے گزر کر مزید مضبوط ہوا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے زور دیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان اور چین کا مضبوط رشتہ علاقائی امن اور ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے "چین-پاکستان کمیونٹی آف شیئرڈ فیوچر” کی تعمیر کو تیز کرنے کی بات کی اور پاکستان کی اتحاد، ترقی اور قومی طاقت کو بڑھانے میں چین کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) 2.0 کو آگے بڑھانے اور آزاد تجارتی معاہدے کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے، جس میں صنعت، زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون پر توجہ دی جائے گی تاکہ پاکستان کی خود انحصاری بڑھے۔ صدر شی نے خاص طور پر پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ملک میں چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے "مضبوط اور مؤثر اقدامات” کریں۔
روس کے ساتھ ایک نیا باب: تجارت میں توسیع
اس کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وفد نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں، وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک خاص طور پر تجارت کے میدان میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ پاکستان کی جانب سے روس سے تیل کی درآمد ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پاکستان-روس تعلقات صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے زراعت، لوہا اور فولاد، توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے دستخط شدہ پروٹوکولز پر بھی بات کی۔
روسی صدر پوتن نے اپنے تبصرے میں پاکستان کو ایشیا میں روس کا ایک "روایتی شراکت دار” قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بین الپارلیمانی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی تعاون کا ذکر کیا۔ صدر پوتن نے وزیر اعظم شہباز شریف کو نومبر میں ماسکو میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، جسے وزیراعظم نے قبول کر لیا۔ پوتن نے حالیہ سیلابوں سے ہونے والے نقصانات پر پاکستانی عوام کے لیے گہرے دکھ کا بھی اظہار کیا۔