نیویارک – 24 ستمبر: وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے آئندہ جائزے میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے اثرات کو لازمی طور پر شامل کیا جائے۔
وزیراعظم نے یہ مطالبہ نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تمام سات اہداف پورے کرنے کے قریب ہے، لیکن جون کے آخر سے شروع ہونے والی ریکارڈ بارشوں اور سیلاب نے پنجاب اور سندھ کے بڑے حصے ڈوبا دیے ہیں۔ اس تباہی نے زرعی زمینوں، صنعتی سرگرمیوں اور برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ نقصانات کے تخمینے اربوں ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ جھٹکا 2022 کے سیلاب سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف پنجاب میں 18 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ زیرِ آب آیا ہے جبکہ ملک بھر میں 2 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر سے زیادہ چاول کی فصل تباہ ہوچکی ہے۔ اس کے باعث غذائی قلت، برآمدی رکاوٹیں اور مہنگائی کا دباؤ حکومت کی اُس امید پر بھاری پڑ رہا ہے جس کے تحت 2026 میں 4.2 فیصد معاشی ترقی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، تاہم "پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلاب کے اثرات کو آئندہ جائزے میں ضرور مدِنظر رکھا جانا چاہیے۔”
آئی ایم ایف سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے سیلاب متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نقصانات کا جامع تخمینہ لگانا بحالی کے عمل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے اصلاحاتی عمل کے تسلسل کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ آئی ایم ایف مستقبل میں بھی پاکستان کو معاشی استحکام کی راہ پر مدد فراہم کرتا رہے گا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر آئی ایم ایف کی حالیہ برسوں میں بروقت معاونت کا اعتراف بھی کیا، جس میں 2024 میں 3 ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ، 2025 میں منظور ہونے والی 7 ارب ڈالر کی سہولت اور 1.4 ارب ڈالر کا ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فنڈ شامل ہیں۔
اسی روز وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی بینک کے صدر اجے بانگا سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، محصولات میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے اقدامات پر مبنی پاکستان کا اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا اور عالمی بینک کے 40 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا خیر مقدم کیا۔
عالمی بینک کے صدر نے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ملک کی ترقی اور طویل المدتی بحالی میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ اس فریم ورک کے تحت قریبی تعاون جاری رکھتے ہوئے معیشت کو مستحکم اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔