باکو – وزیراعظم شہباز شریف آج آذربائیجان کے دارالحکومت باکو پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے 17ویں سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ دو روزہ اجلاس کا آغاز آج ہو رہا ہے، جس کا موضوع ہے: "ایک پائیدار اور موسمیاتی طور پر مضبوط مستقبل کے لیے نئی ECO وژن”۔
وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، جہاں وہ خطے اور دنیا کو درپیش چیلنجز خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی، توانائی تعاون اور تجارتی و نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم اجلاس کے دوران کئی دیگر رکن ممالک کے سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے جن میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان نے عالمی سطح پر بارہا موسمیاتی بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ ملک کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
سال 2022 کے ہولناک سیلاب اس حقیقت کا کڑوا ثبوت ہیں۔ تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، 1,700 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 80 لاکھ کے قریب بے گھر ہو گئے۔ اس قدرتی آفت نے ملک میں انفرااسٹرکچر اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا، جس کا مجموعی مالی تخمینہ تقریباً 30 ارب ڈالر لگایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ECO کا یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے جہاں وہ موسمیاتی مالیاتی معاونت، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور علاقائی یکجہتی کے لیے آواز بلند کر سکتا ہے — جو کہ ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل کے لیے ناگزیر عناصر ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ باکو میں جاری یہ کانفرنس ECO ممالک کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کتنی مؤثر پیش رفت فراہم کرتی ہے۔