وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے دورۂ پاکستان کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا

18 جولائی 2025 – واشنگٹن/اسلام آباد

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ پاکستان سے متعلق خبروں پر بالآخر وائٹ ہاؤس نے وضاحت جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ایسی کوئی منصوبہ بندی زیر غور نہیں۔ اس اعلان نے ان قیاس آرائیوں کو فوری طور پر ختم کر دیا ہے جو مقامی میڈیا رپورٹس کے بعد زور پکڑ رہی تھیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اس وقت پاکستان کا کوئی دورہ طے نہیں پایا ہے۔” یہ بیان ان خبروں کے بعد سامنے آیا جب پاکستان کے دو نجی ٹی وی چینلز نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ستمبر میں اسلام آباد آئیں گے۔

ان ہی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے بعد بھارت کا بھی دورہ کریں گے — ایک ایسی سفارتی پیش رفت جو بلاشبہ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن جاتی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں اسٹریٹیجک تعلقات نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔


اسلام آباد کی خاموشی، واشنگٹن کی وضاحت

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے معمول کی بریفنگ کے دوران کہا، "مجھے صدر ٹرمپ کے کسی متوقع دورے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔”

اسی طرح اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بھی محتاط موقف اختیار کرتے ہوئے رائٹرز کو بتایا، "ہمارے پاس اس حوالے سے اعلان کے لیے کچھ نہیں،” اور مزید کہا کہ "صدر کے شیڈول کی تصدیق کا اختیار صرف وائٹ ہاؤس کے پاس ہے۔”

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔


قیاس آرائیوں کی بنیاد کہاں سے بنی؟

یہ خبریں یکسر بے بنیاد بھی نہیں تھیں۔ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے وائٹ ہاؤس میں ایک غیرمعمولی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کو مبصرین نے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا اشارہ قرار دیا — بلکہ کچھ کے نزدیک یہ ایک ممکنہ اسٹریٹیجک ری سیٹ کی جانب قدم تھا۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی سال میں صدر ٹرمپ کی سیاسی حکمتِ عملی خاصی غیر متوقع اور فوری تبدیلیوں سے بھرپور ہو سکتی ہے، جو اکثر داخلی سیاسی ماحول اور بین الاقوامی حالات کے مطابق ڈھلتی رہتی ہے۔


بھارت اور ‘کواڈ’ کا معاملہ

افواہوں کے مطابق صدر ٹرمپ بھارت میں ہونے والے ‘کواڈ’ اجلاس میں بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ ‘کواڈ’ — یعنی امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کا اسٹریٹیجک اتحاد — انڈو پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توڑ کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھا جاتا ہے۔

اگر صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت دونوں کا دورہ کرتے، تو یہ ایک نہایت نازک سفارتی توازن کا تقاضا کرتا — جو شاید اس وقت کے لیے قبل از وقت ہوتا جب تک پسِ پردہ اہم تیاری نہ کی گئی ہو۔


کیا ابھی بھی کوئی امکان باقی ہے؟

اگرچہ فی الحال وائٹ ہاؤس نے واضح طور پر انکار کر دیا ہے کہ کوئی دورہ طے شدہ ہے، لیکن عالمی سفارت کاری کی فطرت یہی ہے کہ معاملات اکثر پسِ پردہ طے ہوتے ہیں۔ اس لیے مکمل امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم اس وقت تک واشنگٹن سے پیغام بالکل واضح ہے: نہ کوئی شیڈول طے ہوا ہے، نہ ہی کوئی طیارہ روانہ ہونے والا ہے۔

More From Author

 برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

سندھ میں ٹریفک نظم و ضبط کا نیا باب: سندھ ہوم منسٹر نے سندھ پولیس ڈرائیونگ اسکول کا افتتاح کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے