قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں ریکارڈ رقوم اور اثاثے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے مطابق کل 547 ارب 31 کروڑ روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اتوار کو جاری ہونے والی ادارے کی وسط سالانہ کارکردگی رپورٹ میں پیش کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق صرف اپریل سے جون کے درمیان نیب نے 456 ارب 30 کروڑ روپے کی خطیر رقوم اور اثاثے برآمد کیے، جو سال کی پہلی سہ ماہی میں حاصل ہونے والے 91 ارب روپے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ ان میں سے 532 ارب 33 کروڑ روپے مالیت کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثے مختلف وفاقی و صوبائی وزارتوں، سرکاری محکموں اور مالیاتی اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
اسی عرصے میں نیب نے مختلف فراڈز اور اسکینڈلز میں متاثر ہونے والے 12 ہزار 611 شہریوں کو ان کی رقم واپس لوٹا کر عوامی سرمایہ محفوظ رکھنے اور بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں (2023 سے اب تک) میں نیب نے مجموعی طور پر 5 ہزار 854 ارب 73 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے برآمد کیے، جو ماضی میں ادارے کی کل 839 ارب روپے کی برآمدات کے مقابلے میں سات گنا سے بھی زیادہ ہیں۔
مالیاتی وصولیوں کے ساتھ ساتھ نیب صوبائی ریونیو محکموں کے تعاون سے غیر قانونی قبضوں میں موجود سرکاری اراضی کی واگزاری پر بھی کام کر رہا ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق تقریباً 5 کھرب روپے مالیت کی سرکاری زمین اب بھی ناجائز قبضوں میں ہے، جسے واگزار کرانے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ نیب کی قیادت نے ان وسط سالانہ اعداد و شمار کو بدعنوانی کے خلاف اپنے ’’غیر متزلزل عزم‘‘ کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ برآمدات نہ صرف ریکارڈ توڑ ہیں بلکہ پاکستان میں احتساب کے نئے معیار بھی قائم کر رہی ہیں