واشنگٹن:
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دیرینہ دعویٰ کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک ممکنہ جنگ کو روکا، ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے — اور اس بار ایک علامتی بین الاقوامی اعتراف کے ساتھ۔ پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک نمایاں موقع پر، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کا خط پیش کیا، جس میں جنوبی ایشیا میں ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکنے میں ان کے کردار کا حوالہ دیا گیا۔
یہ علامتی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کا انتخابی کیمپ 2026 کے انتخابات سے قبل اپنی خارجہ پالیسی کی کہانی کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے۔ سابق صدر اپنی اس تصویر کو ابھار رہے ہیں کہ وہ پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے تباہی کو ٹالنے والے "امن ساز” رہے ہیں۔
ٹرمپ کے اس بیانیے کو اس وقت مزید تقویت ملی جب امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان، ٹیملی بروس، نے یومیہ پریس بریفنگ کے دوران 2025 میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیزفائر کے موقع پر ٹرمپ کے کردار سے متعلق سوالات کا سامنا کیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے اس دعویٰ کی کئی بار تردید کے باوجود، بروس نے نہ تو اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی۔ "بعض بیانات خود بولتے ہیں،” انہوں نے مبہم انداز میں کہا، اور پھر ہنستے ہوئے مزید کہا: "کچھ آراء غلط بھی ہو سکتی ہیں — میری کم ہی ہوتی ہیں۔”
دوسری جانب، خود ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک بار پھر یہی دعویٰ دہرایا۔ "بھارت اور پاکستان ایک بڑے تصادم — شاید ایٹمی جنگ — کے دہانے پر تھے۔ ہم نے تجارتی دباؤ اور سفارتی طریقے استعمال کیے، اور یہ کارگر ثابت ہوا۔ میں نے دونوں ممالک کی قیادت سے براہ راست بات کی — بشمول پاکستان کے آرمی چیف کے،” ٹرمپ نے دعویٰ کیا۔
بھارت کی تردید، پاکستان کی توثیق
اسلام آباد نہ صرف ٹرمپ کے اس دعویٰ کی تائید کر چکا ہے بلکہ گزشتہ ماہ خود بھی انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کر چکا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت نے ہمیشہ کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر زور دیا کہ سیزفائر مکمل طور پر داخلی فوجی چینلز کے ذریعے ممکن ہوا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بائیڈن حکومت نے بھارت کے اس موقف کی کھل کر تائید نہیں کی۔ امریکی حکام نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے — جسے کچھ مبصرین "حکمتِ عملی پر مبنی مبہم پالیسی” قرار دے رہے ہیں۔
اسلام آباد کے لیے یہ خاموشی خود ایک کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو ایک مثبت اور تعاون پر مبنی فریق کے طور پر پیش کرنا، اور اس پر امریکی ردعمل کا نہ آنا — کئی حلقوں میں اسے واشنگٹن کے بدلتے ہوئے انداز کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
عمران خان کی گرفتاری پر خاموشی
ایک اور قابلِ غور پہلو محکمہ خارجہ کی وہ خاموشی تھی جو سابق وزیراعظم عمران خان کی جاری گرفتاری سے متعلق سوال پر سامنے آئی۔ ٹیملی بروس نے فوری طور پر اس سوال کو وائٹ ہاؤس کی طرف موڑ دیا اور کوئی واضح مؤقف اپنانے سے گریز کیا۔
"ہم اس وقت اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے،” بروس نے مختصر جواب دیا، اور فوراً بات کو ٹرمپ کی عالمی امن کی کوششوں کی تعریف کی جانب موڑ دیا۔ "انعامات کی انہیں پرواہ نہیں۔ ان کے لیے اصل انعام ان کی کامیابی ہے،” انہوں نے کہا۔
مبصرین کے مطابق یہ موقف اس پالیسی میں تبدیلی کا پتہ دیتا ہے جس میں انسانی حقوق کے بجائے اب اسٹریٹجک تعلقات کو اولیت حاصل ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریپبلکن کانگریس مین جیک برگ مین اور امریکی سفارتکار رچرڈ گرنیل جیسے افراد عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
پیش بندی کی سفارت کاری، جمہوری اقدار کی قربانی؟
ٹرمپ انتظامیہ کا جنوبی ایشیا سے متعلق موجودہ رویہ اب واضح ہوتا جا رہا ہے: یہ بیانیہ پر مبنی ہے، شخصی نوعیت رکھتا ہے، اور جمہوری اصولوں سے دور دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کو ایک فعال اور مثبت سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں نہ تصادم ہے اور نہ ہی روایتی نرمی۔
ٹرمپ نے جس "ایٹمی مرحلے” کا ذکر کیا، وہ نہ صرف اس واقعے کی سنگینی کو بڑھاتا ہے بلکہ ان کے کردار کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔ ان کے کیمپ کے مطابق، یہ ان کی قیادت کی اہلیت کا ثبوت ہے۔
نوبل کی امیدیں اور آگے کا راستہ
یہ بات واضح ہے کہ ٹرمپ اپنے آپ کو عالمی منظرنامے میں ایک فیصلہ کن کردار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ نیتن یاہو کی جانب سے نوبل کی نامزدگی، پاکستان کی تائید، اور امریکی خاموشی — یہ سب مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں جس میں ٹرمپ کو ایک عالمی امن ساز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاریخ اس بیانیے کی تصدیق کرے گی یا تردید، یہ وقت بتائے گا۔ لیکن فی الحال، ٹرمپ کی کہانی نہ صرف مقبولیت حاصل کر رہی ہے، بلکہ انہیں عالمی سیاست میں دوبارہ ایک مؤثر کھلاڑی کے طور پر بھی ابھار رہی ہے