ندھ میں خواتین کے لیے پہلی بار برقی پنک اسکوٹیز کی شروعات

کراچی: خواتین کی نقل و حرکت اور بااختیاری کی سمت ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ سندھ حکومت جلد ہی پاکستان کی پہلی برقی پنک اسکوٹیز صرف خواتین کو فراہم کرے گی۔

وزیر کے مطابق اس منصوبے کو خواتین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی ہے اور صرف پہلے مرحلے میں ہی لگ بھگ 10 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے تقریباً 150 خواتین کے پاس پہلے سے ڈرائیونگ لائسنس موجود ہیں، جبکہ باقی خواتین نے لرنر پرمٹ کے لیے درخواست دی ہے۔

یہ منصوبہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے، جو خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت فراہم کرے گی اور ان کے ڈرائیونگ لائسنس کی فیس بھی خود ادا کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد خواتین پر مالی بوجھ کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔

شفاف تقسیم کا طریقہ

شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ اگر درخواست دہندگان کی تعداد ایک ہزار اسکوٹیز سے بڑھ گئی تو تقسیم کا عمل قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں محکمہ ایکسائز، ٹرانسپورٹ، فنانس اور میڈیا کے نمائندے شامل ہوں گے۔

درخواست دینے کا طریقہ

خواہشمند خواتین آسانی سے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جا کر درخواست دے سکتی ہیں۔ طریقہ کار درج ذیل ہے:

  1. ویب سائٹ کے "پروجیکٹس” سیکشن پر جائیں۔
  2. "ای وی اسکوٹی بیلٹ فارم – ایپلیکیشن فارم” پر کلک کریں۔
  3. فارم پُر کریں، مطلوبہ دستاویزات منسلک کریں اور آن لائن جمع کرا دیں۔

برقی پنک اسکوٹیز کا اجرا نہ صرف روزمرہ سفر کے لیے ایک عملی سہولت ہے بلکہ یہ شمولیت اور خواتین دوست ماحول کی علامت بھی ہے، جس سے کراچی اور سندھ میں خواتین کی نقل و حرکت مزید آسان اور محفوظ ہو سکے گی

More From Author

بڑی پیشرفت: ریکو ڈیک منصوبے کے لیے 6 ارب ڈالر کی فنڈنگ کا اعلان

حکومت کی جانب سے پی ٹی وی کو 11 ارب روپے کی سبسڈی، بجلی کے نرخ کم کرنے کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے