لاہور/کراچی – اداکارہ میمونا قدوس نے پاکستانی شوبز انڈسٹری پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے ایک نیا تنازع چھیڑ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاہور کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں "غلط رویے” اور بے راہ روی کراچی کے مقابلے میں زیادہ عام ہیں۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے میمونا قدوس نے الزام لگایا کہ لاہور میں ہم جنس پرستی اور نمایاں عوامی پارٹیاں زیادہ نظر آتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ اگر ہوتا بھی ہے تو اسے ذاتی زندگی تک محدود رہنا چاہیے، سرعام نہیں ہونا چاہیے۔
لاہور بمقابلہ کراچی: دو مختلف حقیقتیں
اداکارہ نے دونوں شہروں کے ماحول کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں لوگ اکثر دولت اور طرزِ زندگی کا "شو آف” کرتے ہیں جو حقیقت میں ان کے پاس نہیں ہوتی۔ دوسری جانب، کراچی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ نہایت پروفیشنل ہیں، لیکن بعض اوقات یہ پروفیشنل ازم اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ "انسانیت پیچھے رہ جاتی ہے۔”
"کراچی میں اتنا پروفیشنل ازم ہے کہ انسانیت کہیں کھو گئی ہے،” انہوں نے کہا۔
تعلقات میں ’ڈیلز‘ کا رجحان
میمونا قدوس نے کراچی کی سوشل لائف کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہاں تعلقات بھی اکثر ایک طرح کی ڈیل کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔
"مرد یہ پیشکش کرتے ہیں کہ اگر گرل فرینڈ بنو تو یہ چیزیں ملیں گی، ورنہ کوئی مسئلہ نہیں،” انہوں نے دعویٰ کیا۔
کاسٹنگ کاؤچ اور استحصال
اداکارہ نے شوبز میں ہراسانی اور استحصال کے مسئلے پر بھی بات کی اور تسلیم کیا کہ "کاسٹنگ کاؤچ” یعنی کردار کے بدلے جنسی تعلقات کی شرط رکھنے کا رجحان اب بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد بھی اس کا شکار بنتے ہیں۔
"عزت صرف عورتوں کے لیے نہیں، مرد بھی ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی غلط رویے اختیار کیے جاتے ہیں،” انہوں نے زور دیا۔
ممکنہ ردِعمل
میمونا قدوس کے یہ بیانات شوبز انڈسٹری میں یقینی طور پر بحث کو جنم دیں گے۔ ان کے بعض خیالات کو لوگ کھلی حقیقت سمجھ سکتے ہیں، لیکن کچھ حلقے ان کے عمومی اور سخت تبصروں کو چیلنج بھی کر سکتے ہیں۔