مون سون کی بارشوں سے بیماریوں میں اضافہ، ماہرین کی تشویش

اسلام آباد:
ملک بھر میں جاری موسلا دھار مون سون بارشوں کے باعث موسمی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو صحتِ عامہ کا سنگین بحران جنم لے سکتا ہے۔

چکوال، بونیر اور دیگر علاقوں کے اسپتالوں اور کلینکس میں آنکھوں کے انفیکشن، ملیریا، ڈینگی بخار اور سانپ کے کاٹنے کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین صحت اس صورتحال کو بارش کے بعد جمی ہوئی گندے پانی کی تالابوں، ناقص صفائی ستھرائی اور انسانوں کے زیادہ تر پانی یا جھاڑی دار علاقوں سے گزرنے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

جنرل فزیشن ڈاکٹر عمران جادون نے فوری احتیاطی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا:
“لوگوں کو لازمی مچھر بھگانے والی ادویات استعمال کرنی چاہییں، ڈھکے ہوئے کپڑے پہننے چاہییں، گندے پانی سے بچنا چاہیے اور اگر علامات ظاہر ہوں یا سانپ کے کاٹنے کی صورت پیش آئے تو فوراً قریبی اسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔”

ان کا کہنا تھا کہ آنکھوں کی بیماری "کنجیکٹووائٹس” یا عام زبان میں "سرخ آنکھ” مون سون کے موسم میں زیادہ پھیلتی ہے کیونکہ نمی اور جراثیم کی افزائش کے لیے یہ ماحول موزوں ہوتا ہے۔ اس بیماری کی عام علامات میں آنکھوں کی لالی، خارش، پانی آنا، چبھن اور ایسا مواد شامل ہے جو نیند کے بعد پلکوں کو آپس میں چپکا دیتا ہے۔ ڈاکٹر جادون نے لوگوں کو ہدایت دی کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھیں، گندے ہاتھوں سے آنکھوں کو نہ چھوئیں، الگ تولیے اور ذاتی اشیاء استعمال کریں اور مریضوں سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کریں۔

ڈاکٹر قدیر نے بتایا کہ اسکول جانے والے بچے اس مرض کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے والدین اور تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ صفائی ستھرائی کے انتظامات بہتر بنائیں اور بچوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کریں۔

دوسری جانب ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ اس موسم میں ملیریا اور سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق بارش کے پانی کے ذخیرے نہ صرف مچھروں کی افزائش گاہ بن جاتے ہیں بلکہ سانپ بھی رہائشی علاقوں کا رخ کرنے لگتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ جسم کو ڈھکنے والے کپڑے پہنیں، کھڑے پانی کو ختم کریں اور بخار یا سانپ کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر اسپتال پہنچیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بیماریاں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں اگر عوام نے غفلت برتی۔ ان کے مطابق ہوشیاری، صفائی اور بروقت احتیاطی تدابیر ہی ان موسمی بیماریوں اور وباؤں سے بچاؤ کا واحد حل ہیں

More From Author

27 اگست کو کراچی میں بھاری بارش کے امکانات نہیں

 کراچی انٹر کے امتحانات کے نتائج: کامیابی کا تناسب 55.59 فیصد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے