کراچی – حکومت کے مالیاتی ایکٹ 2025 میں شامل ‘کاروبار دشمن’ اقدامات کے خلاف ملک بھر کے تاجروں اور سامان بردار ٹرانسپورٹرز نے 19 جولائی کو مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جس سے معاشی سرگرمیاں مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں ہڑتال کی کال دی۔ اس موقع پر چیمبر کے دیگر عہدیداروں اور ملک بھر کی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے رہنما بھی موجود تھے۔
بلوانی نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے متنازع اقدامات واپس نہ لئے تو یہ ہڑتال ملک گیر کاروباری سرگرمیوں کو جام کر دے گی۔
"جب تک حکومت یہ سخت اقدامات معطل نہیں کرتی، 19 جولائی کو ہونے والی ہڑتال پوری قوت سے ہو گی جس سے ملک بھر میں کاروبار اور اشیاء کی ترسیل رک جائے گی،” انہوں نے کہا۔
کے سی سی آئی صدر نے بتایا کہ ملک بھر کی 50 سے زائد تاجر تنظیمیں اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں، جس سے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی کاروباری ہڑتال ہونے کا امکان ہے۔
چیمبر نے اپنے بیان میں پانچ اہم مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو تاجروں کی گرفتاری کا اختیار دینے والی شقوں کا خاتمہ
- دو لاکھ روپے سے زائد کی نقد لین دین پر جرمانوں کا خاتمہ
- لازمی ڈیجیٹل انوائسنگ کی شرط کا خاتمہ
- سامان بردار ٹرانسپورٹرز کے لئے ای-بلٹی سسٹم کا خاتمہ
- برآمد کنندگان کے لئے فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی
بلوانی نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کی تنظیموں نے تاجروں کے ساتھ ‘غیر متزلزل یکجہتی’ کا یقین دلایا ہے اور مکمل پہیہ جام ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
"19 جولائی کو کوئی گاڑی نہیں چلے گی… ہم کاروباری برادری کے ساتھ مکمل اتحاد میں ہیں،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ وزارت خزانہ نے غیر رسمی رابطہ کیا ہے لیکن تاحال کوئی باضابطہ یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری صرف اسی صورت میں بات چیت کرے گی جب حکومت متنازع اقدامات معطل کرنے پر آمادہ ہو گی۔
بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا نے بھی اس موقع پر کہا کہ تاجر برادری ہڑتالوں کی حامی نہیں لیکن موجودہ حالات نے انہیں اس فیصلے پر مجبور کر دیا ہے۔
"کاروباری برادری روز روز کی ہڑتالیں پسند نہیں کرتی، لیکن حالات نے ہمیں اس انتہائی قدم پر لا کھڑا کیا ہے،” انہوں نے کہا۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس سمیت دیگر ٹرانسپورٹرز تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں، وہ چیمبر کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے اس غیر معمولی اتحاد نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ اگر حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان ڈیڈلاک برقرار رہا تو ملک میں سپلائی چینز، اشیائے خورونوش اور صنعتوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔