کراچی – 2 اگست 2025:
کراچی کی وکلا برادری کو اُس وقت شدید دھچکا لگا جب ممتاز سینئر قانون دان خواجہ شمس الاسلام کو ڈی ایچ اے فیز 6 میں واقع قرآن اکیڈمی کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ واقعے میں ان کے بیٹے دانیال بھی زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ افسوسناک واقعہ جمعے کی نماز اور ایک جنازے میں شرکت کے بعد پیش آیا، جب وہ والد اور بیٹے قرآن اکیڈمی سے باہر نکل رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، ایک شخص جو شلوار قمیص، نیلا ویسٹ کوٹ اور ماسک پہنے ہوئے تھا، قریب آیا اور انتہائی قریب سے فائرنگ کر دی۔ حملہ آور نے فائرنگ کے دوران مبینہ طور پر کہا کہ وہ اپنے والد کے قتل کا بدلہ لے رہا ہے، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گیا۔
خواجہ شمس الاسلام کا شمار ان وکلا میں ہوتا تھا جنہوں نے سول مقدمات میں کراچی بھر میں بڑی پراپرٹی ڈیلز اور قانونی تنازعات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایک ہائی پروفائل کیس میں بھی پیش ہوئے تھے جس میں محترمہ فاطمہ جناح کی رہائش گاہ کو لڑکیوں کے ہاسٹل اور ڈینٹل کالج میں تبدیل کرنے کے خلاف قانونی کارروائی شامل تھی۔
پولیس کے ابتدائی بیانات کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ تفتیش کاروں نے عمران آفریدی کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے، جو کہ مرحوم نبی گل آفریدی کا بیٹا ہے۔ نبی گل کے قتل کا مقدمہ 2021 میں بوٹ بیسن تھانے میں درج ہوا تھا، اور آفریدی خاندان کا دعویٰ ہے کہ خواجہ شمس الاسلام اس کیس میں اہم کردار رکھتے تھے۔
موقع واردات سے 9 ایم ایم پستول کے دو خول اور ایک گولی کا ٹکڑا برآمد ہوا ہے۔ خواجہ شمس الاسلام کو سینے میں گولی لگی، جبکہ ان کے بیٹے دانیال کو کمر کے نچلے حصے میں زخم آئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا، ایس ایس پی مہروز علی سمیت دیگر افسران جائے وقوعہ پر پہنچے، اور کرائم سین یونٹ نے شواہد جمع کیے۔ ایس ایس پی ساؤتھ نے میڈیا کو بتایا کہ خواجہ شمس الاسلام پر نومبر 2024 میں بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جو اب اس واقعے سے جوڑا جا رہا ہے۔ علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آور کے فرار کی راہ تلاش کی جا رہی ہے۔
ادھر پولیس نے کیماری کے علاقے سکندرآباد سے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ سی ٹی ڈی کے انچارج راجہ عمر خطاب کے مطابق، بظاہر واقعہ ذاتی رنجش کا شاخسانہ لگتا ہے، تاہم مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے پر وکلا برادری نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری رحمان کورائی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ہفتہ کے روز مکمل ہڑتال کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا:
"یہ صرف ایک وکیل پر حملہ نہیں، انصاف پر حملہ ہے۔”
انہوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
رحمان کورائی نے مزید بتایا کہ کراچی بار نے ملک بھر کی وکلا تنظیموں سے رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ ایک مؤثر احتجاج کیا جا سکے۔
"جب تک مجرم گرفتار نہیں ہوتے، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے،” انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری اور غیر جانبدار تحقیقات کا حکم دیا اور ہدایت دی کہ قاتلوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔