برازیل میں کی گئی ایک تحقیق میں 12,772 بالغ افراد کو آٹھ سال تک فالو کیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ اسپارٹیم، سکرین، ایسیسلفیم-کے، اریتھریٹول، سوربیٹول اور زیائلٹول جیسے مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والوں میں یادداشت اور دماغی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ سب سے زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں دماغی زوال کی رفتار 62 فیصد زیادہ پائی گئی — جو تقریباً 1.6 سال کے دماغی بڑھاپے کے برابر ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں پر اس کا اثر زیادہ دیکھا گیا، کیونکہ وہ عموماً چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد پر یہ اثر نہیں تھا، اور ٹاگیٹوس (tagatose) واحد مٹھاس تھی جس کا دماغی زوال سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔
مصنوعی مٹھاس کو پہلے ہی ذیابیطس، دل کی بیماری اور فالج کے زیادہ خطرے سے جوڑا جا چکا ہے۔ یہ نئی تحقیق اشارہ کرتی ہے کہ یہ دماغی صحت کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ ’’کم کیلوریز‘‘ والے یہ متبادل اتنے محفوظ نہیں جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔