ماہرینِ فلکیات نے ایک غیر معمولی فلکیاتی واقعہ دریافت کیا ہے، جس میں ایک عظیم ستارہ بلیک ہول کے ساتھ اپنی "مہلک رقص” کے دوران شاندار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس دریافت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے بروقت شناخت کیا گیا، جس کی وجہ سے سائنسدانوں کو یہ دھماکہ مدھم ہونے سے پہلے حقیقی وقت میں دیکھنے اور ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔
یہ واقعہ، جسے SN 2023zkd کا نام دیا گیا ہے، جولائی 2023 میں ایک نئے AI الگورتھم نے سب سے پہلے نوٹ کیا۔ یہ الگورتھم آسمان میں غیر معمولی ستاروں کے دھماکوں کو تلاش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس بروقت اطلاع نے ماہرینِ فلکیات کو زمین اور خلا میں موجود دوربینوں کے ذریعے اس واقعے کو غیر معمولی تفصیل کے ساتھ دستاویزی شکل دینے کا موقع فراہم کیا۔
ستارے کی آخری جدوجہد
ماہرین کے مطابق، غالب امکان ہے کہ ستارہ اپنے قریبی بلیک ہول کے گرد گردش کرتے ہوئے بتدریج کششِ ثقل کے شدید دباؤ کا شکار ہوا، جس نے بالآخر اسے دھماکے پر مجبور کر دیا۔ بلیک ہول کی کشش نے ستارے سے گیس اور گرد چھین کر ایک گھومتا ہوا ڈِسک بنا دیا، اور پھر ایک خوفناک دھماکے کی صورت میں یہ عمل اپنے انجام کو پہنچا۔
“اس طرح کا واقعہ اس سے پہلے اتنی وضاحت کے ساتھ کبھی نہیں دیکھا گیا،” ریان فولی، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا کروز کے شعبہ فلکیات و فلکی طبیعیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ینگ سپرنووا ایکسپیریمنٹ (YSE) کے سربراہ نے کہا۔ ان کے مطابق: “انسان غیر معمولی چیزوں کو پہچاننے میں اچھے ہیں، مگر الگورتھم یہ کام کہیں پہلے کر لیتے ہیں، اور ایسے وقت حساس معاملات میں یہی سب سے اہم فرق ہوتا ہے۔”
یہ نتائج، جو 13 اگست کو ایسٹروفزیکل جرنل میں شائع ہوئے، اب تک کے سب سے مضبوط شواہد ہیں کہ ایک بلیک ہول براہِ راست سپرنووا دھماکے کو جنم دے سکتا ہے۔
غیر متوقع چمک
SN 2023zkd زمین سے تقریباً 73 کروڑ نوری سال کی دوری پر واقع تھا۔ ابتدا میں یہ ایک عام سپرنووا جیسا لگ رہا تھا، جس میں محض ایک تیز روشنی کا دھماکہ ہوا۔ لیکن سائنسدانوں کے لیے حیران کن بات یہ تھی کہ چند ماہ بعد یہ دوبارہ روشن ہوا۔ یہ دوسری روشنی اُس وقت پیدا ہوئی جب دھماکہ ستارے کے اُس ملبے سے ٹکرایا جو اس نے اپنی موت سے پہلے کئی برسوں میں خارج کیا تھا۔
پرانی مشاہداتی معلومات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ نظام دھماکے سے کم از کم چار سال پہلے تک بتدریج روشن ہو رہا تھا، جو کہ سپرنووا کے لیے ایک غیر معمولی طرزِ عمل ہے۔ اس سست رفتار اضافہ نے اس امکان کو مزید تقویت دی کہ ستارہ شدید کششی دباؤ میں تھا—اور اس کی سب سے بڑی وجہ اس کا بلیک ہول ساتھی تھا۔
سائنس اور مشکلات
اس دریافت کے لیے بین الاقوامی ٹیم میں کیلیفورنیا یونیورسٹی، ایم آئی ٹی اور ہارورڈ و سمتھسونیان کے ماہرین شامل تھے۔ یہ کام اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت فلکیات میں انقلاب لا رہی ہے اور ایسے نایاب واقعات کو سامنے لا رہی ہے جو شاید دوسری صورت میں کبھی دریافت نہ ہو پاتے۔
البتہ اس منصوبے نے سائنسی تحقیق کو درپیش مسائل کی جانب بھی اشارہ کیا۔ فولی نے بتایا کہ غیر یقینی مالی وسائل کی وجہ سے ان کی ٹیم کو محدود کرنا پڑا ہے، کم طلبہ کو شامل کیا جا رہا ہے اور مشاہدات کا دائرہ بھی سکڑ گیا ہے۔
اس سب کے باوجود، سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ صرف فلکیات ہی نہیں بلکہ طب، مالیات، سکیورٹی اور آفات سے بچاؤ جیسے شعبوں میں بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ فولی کے مطابق: “حقیقی وقت میں غیر معمولی تبدیلیوں کو پہچاننا ہر اس شعبے میں قیمتی ہے جہاں فوری ردعمل ضروری ہو۔”
فی الحال، SN 2023zkd اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب ٹیکنالوجی اور انسانی مہارت ایک ساتھ کام کرتی ہیں تو کائنات کے سب سے پراسرار راز بھی عیاں ہو سکتے ہیں۔