سردیوں کا سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی مری انتظامیہ نے سیاحوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے جامع منصوبہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، تاکہ لوگ برفباری کا لطف محفوظ ماحول میں اٹھا سکیں۔
مری میں ہر سال 15 دسمبر سے 25 فروری تک جاری رہنے والا موسمِ سرما سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچتا ہے، لیکن ساتھ ہی ٹریفک جام، پھسلن، اور ہجوم جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال ایک مکمل “اسنو پلان” تیار کیا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت 20 برف ہٹانے والی گاڑیاں مختلف مرکزی راستوں پر تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ سڑکیں کھلی رہیں اور گاڑیوں کی آمدورفت متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ 19 فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جو سیاحوں کو معلومات، رہنمائی اور ہنگامی مدد فراہم کریں گے۔
ایک فوجی دستہ بھی چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر رہے گا اور این ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، پولیس اور سول ڈیفنس کے ساتھ مل کر حالات کی نگرانی کرے گا۔ حکام کے مطابق یہ مشترکہ اقدامات کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردِعمل کو یقینی بنائیں گے۔
ٹریفک کے بہتر انتظام کے لیے مرکزی شاہراہوں پر پارکنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ مری میں گاڑیوں کا داخلہ بھی محدود رکھا جائے گا تاکہ غیر ضروری ہجوم سے بچا جا سکے۔ ہوٹلوں کو کمرے، خوراک اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کی قیمتیں پہلے سے مقرر کردہ نرخوں پر وصول کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے، تاکہ سیاحوں سے ناجائز منافع خوری نہ کی جائے۔
شہر آنے والے افراد کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گرم کپڑے، کمبل، سنو چینز اور دیگر ضروری سامان ساتھ رکھیں تاکہ شدید سردی یا کسی ممکنہ تاخیر کی صورت میں مشکلات پیش نہ آئیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہجوم کے بہتر نظم و نسق، بروقت مدد کی فراہمی اور جھگڑوں کے سدباب پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ مری میں آنے والے لوگ پرسکون ماحول میں برفانی مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔
ان اقدامات کے ساتھ حکام پر امید ہیں کہ اس بار سردیوں کا موسم نہ صرف زیادہ محفوظ ہوگا بلکہ سیاحوں کے لیے پہلے سے زیادہ منظم اور خوشگوار ثابت ہوگا۔