مائیکروسافٹ نے فلسطینیوں کی نگرانی پر اسرائیلی فوجی یونٹ کو خدمات معطل کر دیں

واشنگٹن، 26 ستمبر 2025 — ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنے کلاؤڈ کے کچھ اہم سروسز اسرائیل کی ایک فوجی یونٹ کو فراہم کرنا بند کر دی ہیں، جب ایک اندرونی جائزے نے اس بات کی تصدیق کی کہ کمپنی کی ٹیکنالوجی فلسطینیوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

یہ اقدام برطانوی اخبار گارڈین، 972 میگزین اور لوکل کال کی مشترکہ تحقیقات کے بعد سامنے آیا، جن میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی فوج مائیکروسافٹ کے ایژور (Azure) کلاؤڈ پلیٹ فارم کے ذریعے مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کی فون کالز کو محفوظ اور پراسیس کر رہی تھی۔

مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ نے ایک بلاگ پوسٹ میں فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی نتائج میڈیا رپورٹس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: “ہم اپنی ٹیکنالوجی کو عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے فراہم نہیں کرتے، اسی لیے وزارتِ دفاع کی کچھ کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کی سبسکرپشنز کو معطل اور منقطع کر دیا گیا ہے۔”

تاہم کمپنی نے وضاحت کی کہ یہ معطلی صرف اسٹوریج اور اے آئی خدمات تک محدود ہے، جبکہ اسرائیل اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے لیے سائبر سکیورٹی سہولیات بدستور جاری رہیں گی۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اس فیصلے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل فوجی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ مائیکروسافٹ کے ساتھ تمام تعاون “قانونی طور پر نگرانی شدہ معاہدوں” کے تحت ہے اور کمپنی نے براہِ راست کوئی نگرانی کا ڈیٹا ہینڈل نہیں کیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا ردعمل

یہ فیصلہ سامنے آتے ہی حقوقِ انسانی کے اداروں نے اسے خوش آئند قرار دیا۔ امریکی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) اور کارکنوں کی مہم No Azure for Apartheid نے اس اقدام کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

سی اے آئی آر کی واشنگٹن شاخ کے ڈائریکٹر عمران صدیقی نے کہا: “یہ اُن بہادر ٹیک ورکرز کی جیت ہے جنہوں نے آواز بلند کی اور احتجاج کیا۔”

تاہم دونوں تنظیموں نے زور دیا کہ مائیکروسافٹ کو صرف خدمات معطل کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ تمام تعلقات ختم کرنے چاہییں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائی نے پوری آبادی کو بے گھر اور لاکھوں جانیں ضائع کر دی ہیں۔

بڑھتا دباؤ اور اندرونی اختلاف

مائیکروسافٹ ان بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ہے جنہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر اندرونی بغاوت اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ غزہ کی انسانی بحران کی ہولناک تصاویر، بھوکے خاندان اور متاثرہ بچے دنیا بھر میں مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں، یہاں تک کہ مائیکروسافٹ کے دفاتر کے باہر بھی احتجاج دیکھنے میں آیا۔

گزشتہ مہینوں میں، کئی ملازمین کو برطرف کر دیا گیا جنہوں نے صدر بریڈ اسمتھ کے دفتر میں دھرنے دیے تھے۔ کمپنی کے مطابق یہ برطرفیاں “پالیسی کی خلاف ورزی اور سلامتی کے خدشات” کی بنا پر ہوئیں۔

گارڈین کی قیادت میں ہونے والی تازہ تحقیق نے اس مہم کو مزید تقویت دی ہے، جس میں شواہد ملے کہ اسرائیل کی فلسطینیوں پر نگرانی یورپی ڈیٹا سینٹرز اور مائیکروسافٹ کی اے آئی خدمات کے ذریعے کی جا رہی تھی۔

پس منظر

یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ پر اسرائیل کی دو سالہ فوجی یلغار نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور اقوامِ متحدہ سمیت کئی ماہرین اسے “نسل کشی” قرار دے چکے ہیں۔ لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا ہے۔

ماہرین کے مطابق مائیکروسافٹ کا فیصلہ ایک نایاب مگر اہم قدم ہے، جس کے ذریعے عالمی سطح کی ایک بڑی ٹیک کمپنی نے خود کو اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر کمپنی واقعی انسانی حقوق کی پاسداری چاہتی ہے تو اسے مزید سخت فیصلے لینے ہوں گے۔

More From Author

ٹرمپ کا نئی ٹیرف پالیسی کا اعلان: ادویات، ٹرکس اور فرنیچر پر بھاری محصولات یکم اکتوبر سے نافذ

ایشیا کپ فائنل سے قبل پاکستان کے کوچ مائیک ہیسن کا کھلاڑیوں کو اہم پیغام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے