کراچی، پاکستان – الزام لگایا گیا ہے کہ لیاقت یونیورسٹی اسپتال (LUH) کے کازوالٹی وارڈ کے عملے نے ایڈھی رضاکاروں کے ذریعے اسپتال لائے گئے ایک نامعلوم شخص کا علاج کرنے سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ "بہت گندا” ہے اور اسے علاج سے قبل نہانا ضروری ہے۔
ایڈھی سینٹر کے انچارج محمد مختیار کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایمبولینس ڈرائیور طاہر علی ہالا ناکا میں اس شخص کو تقریباً بے ہوش حالت میں پایا۔ اس کا ہاتھ سیوریج کے نالے میں پڑا ہوا تھا اور منہ سے خون آ رہا تھا، جس کے لیے فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔
طاہر علی اور ریسکیو 1122 کے ایک کارکن نے مل کر اس شخص کو سڑک سے اٹھایا، پولیس سے ہنگامی صورتحال کی تصدیق والا خط حاصل کیا اور اسے اسپتال پہنچایا۔ تاہم، اسپتال کے عملے نے مبینہ طور پر علاج میں تاخیر کی اور کہا کہ پہلے اسے صاف کیا جائے۔
ایڈھی سینٹر کے عملے نے اسپتال کے ردعمل پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہنگامی طبی حالات میں کسی بھی قسم کی تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس انکار کو "غیر انسانی” اور طبی اخلاقیات کے خلاف قرار دیا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ صفائی اور صحت اہم ہیں، لیکن ہنگامی حالات میں کسی مریض کا علاج روکنا ناقابل قبول ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ اسپتال اور طبی عملے پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مریض کو فوری طور پر علاج فراہم کریں، چاہے اس کی حالت یا صفائی کچھ بھی ہو۔
اس واقعہ نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں شہریوں نے اسپتال کو طبی اخلاقی ذمہ داری سے غفلت برتنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ صحت کے حقوق کے حامیوں نے واقعہ کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس صورتحال میں ایڈھی کے رضاکار مستحق اور کمزور افراد کو فوری امداد فراہم کرتے رہتے ہیں، جو ملکی صحت کے نظام میں موجود خلا کو واضح کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اسپتالوں کو اپنے ہنگامی پروٹوکولز کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ مریضوں کو وقت پر اور غیر متعصبانہ طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
اب تک لیاقت یونیورسٹی اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے شہری اسپتالوں میں جوابدہی کے نظام اور ہنگامی مریضوں کے علاج کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔