کراچی – جولائی 2025
کراچی کے علاقے لیاری میں افسوسناک عمارت گرنے کے واقعے کے بعد، جس میں کم از کم 27 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، حکومت نے واقعے کی وجوہات جاننے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ اور سفارشات پیش کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، اس تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کمشنر کراچی کریں گے، جبکہ اس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران شامل ہیں۔ ارکان میں ڈائریکٹر عائشہ حمید، ڈیمولیشن کمیٹی کے سیکریٹری ندیم احمد، ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنالوجی آصف علی لانگاہ، اور سیکشن آفیسر حمداللہ سحر شامل ہیں۔
کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان تمام افراد یا اداروں کی نشاندہی کرے جن کی غفلت یا لاپرواہی اس سانحے کا باعث بنی۔ اس کے علاوہ، کمیٹی کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرے، اور خطرناک عمارتوں سے لوگوں کے انخلا کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار تجویز کرے۔
تحقیقاتی دائرہ کار صرف موجودہ واقعے تک محدود نہیں رہے گا۔ کمیٹی اس عمارت کے تعمیراتی اجازت نامے، تعمیراتی معیار، اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے گی۔ ساتھ ہی، لیاری کے دیگر بوسیدہ یا غیر قانونی تعمیرات کی بھی چھان بین کی جائے گی، جو اس پرانے اور گنجان آباد علاقے کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہیں۔
حکام نے کمیٹی کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی متعلقہ افسر یا ادارے کو طلب کر سکے تاکہ تحقیقات میں رکاوٹ نہ آئے۔ کمیٹی ماضی میں پیش آنے والے عمارتوں کے انہدام کے واقعات کا بھی جائزہ لے گی تاکہ مجموعی طور پر شہری تعمیراتی نظام کی خامیاں سامنے آ سکیں۔
لیاری-بغدادی میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف کراچی کے خستہ حال انفراسٹرکچر پر سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے، بلکہ اس نے تعمیراتی قوانین کی ناقص عملداری کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سولہ مرد، نو خواتین اور دو بچے شامل تھے، جن میں اکثریت مقامی ہندو برادری سے تعلق رکھتی تھی۔ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق، عمارت بغیر کسی پیشگی انتباہ کے زمیں بوس ہو گئی، جس کے ملبے تلے صرف رہائشی ہی نہیں بلکہ 50 سے زائد رکشے اور موٹر سائیکلیں بھی دب گئیں۔ امدادی کارروائیاں کئی گھنٹے جاری رہیں، جس میں رضاکاروں اور ریسکیو اداروں نے ملبے سے زندہ افراد کو نکالنے کی بھرپور کوشش کی۔
شہر ایک اور قابلِ گریز سانحے پر سوگوار ہے، جبکہ شہری حلقوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے — اور عوامی مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اب سب کی نظریں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور ممکنہ احتساب پر مرکوز ہیں۔