نیویارک (23 ستمبر 2025): فرانس نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کر لیا ہے، جو عالمی سفارت کاری میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع کی یاد میں پیرس کے مشہور ایفل ٹاور پر فلسطین اور اسرائیل کے پرچم ایک ساتھ لہرائے گئے۔
یہ اعلان فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا: “آج میں اعلان کرتا ہوں کہ فرانس ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے۔” ان کے اس بیان نے ایوان میں بھرپور توجہ حاصل کی۔
صدر میکرون نے زور دیا کہ دنیا کو اس لمحے کو غنیمت جانتے ہوئے امن کے امکانات کو بچانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا: “ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دو ریاستی حل کو ممکن بنایا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ جنگوں، قتلِ عام اور ہجرتوں کا خاتمہ کیا جائے۔ انسانیت ایک منصفانہ امن کے موقع سے محروم ہونے کے قریب ہے۔”
فرانس کا یہ اقدام حالیہ ہفتوں میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور پرتگال کے فیصلوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے ملک کا مؤقف واضح کیا، جبکہ آسٹریلوی حکام نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھی اعلان کیا کہ ان کا ملک فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتا ہے اور اسے امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ پرتگال کے وزیرِ خارجہ پاؤلو رینجل نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا پرتگالی خارجہ پالیسی کا ایک اصولی اور دیرینہ مؤقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی وہ واحد راستہ ہے جو ایک منصفانہ اور دیرپا امن کو یقینی بنا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کی یہ بڑھتی ہوئی عالمی لہر اس دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے دباؤ میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق فرانس کا فیصلہ خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ فلسطین کو عالمی سطح پر ایک مضبوط آواز دینے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔