غزہ پر قبضے کا فیصلہ اسرائیل پر چھوڑ دیا جائے، ٹرمپ کا محتاط بیان

واشنگٹن – 6 اگست 2025:
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے مستقبل سے متعلق ایک محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے پر اسرائیلی قبضے کا فیصلہ اسرائیل خود کرے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ اسرائیل کے اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے تحت غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول حاصل کیا جائے گا، تو انہوں نے کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا،
"ہماری توجہ اس وقت غزہ میں زیادہ سے زیادہ خوراک پہنچانے پر ہے۔ باقی معاملات اسرائیل کے اپنے فیصلے پر منحصر ہیں۔”

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے اعلیٰ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس حکام سے ملاقات میں غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے کی حمایت کی۔ اس پیش رفت نے خطے میں طویل المدتی استحکام کے حوالے سے نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کو براہ راست امریکی نگرانی میں لانے پر غور کر رہی ہے، تاکہ مقامی سیاسی جماعتوں کے ساتھ الجھنے سے بچا جا سکے۔


حماس کا آئندہ غزہ حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

ادھر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی بعد از جنگ سیٹ اپ میں غزہ کی حکومتی ذمہ داریاں قبول کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر حماس رہنما، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، نے بتایا کہ حماس نہ تو بارڈر کراسنگز کا کنٹرول سنبھالنا چاہتی ہے اور نہ ہی امدادی کارروائیوں میں انتظامی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا، "فلسطینی عوام اور حماس پر شدید دباؤ ہے۔ ہم جنگ بندی کے حوالے سے مثبت رویہ اپنا رہے ہیں۔”

انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کو "گہری بدنیتی کا مظہر” قرار دیا اور کہا کہ غزہ پر قبضے کی دھمکی فلسطینیوں کو مزید مشتعل کر سکتی ہے، خاص طور پر اس صورتحال میں جب اسرائیلی یرغمالیوں کی بازیابی کا معاملہ حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

ٹرمپ کا غیر واضح رویہ شاید سیاسی تنقید سے بچنے کی کوشش ہو، لیکن اس سے امریکہ کے بدلتے ہوئے مؤقف کی عکاسی ضرور ہوتی ہے—جہاں ایک طرف انسانی امداد پر زور ہے اور دوسری طرف اسرائیلی فوجی فیصلوں میں براہ راست مداخلت سے گریز۔

جبکہ دنیا بھر سے جنگ بندی کے مطالبات شدت اختیار کر رہے ہیں، امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک پر یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کے مستقبل میں اپنے کردار کو واضح کریں — خواہ وہ سفارتکاری ہو، امداد ہو یا کسی گہرے عملی کردار کی صورت میں۔

More From Author

ٹرمپ کے الزامات کے بعد وائٹ ہاؤس کی بینکاری شعبے پر نظر – سیاسی امتیاز کا دعویٰ

اسلام آباد میں کیش لیس نظام متعارف کرانے کا فیصلہ: سی ڈی اے کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب اہم پیشرفت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے