غزہ شہر کے آسمان ایک بار پھر دھماکوں سے لرز اٹھے جب اسرائیلی فضائی حملوں نے ایک اور رہائشی بلند عمارت "الرؤیا ٹاور” کو زمین بوس کر دیا۔ فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق یہ تین دنوں میں تباہ ہونے والی تیسری بڑی عمارت ہے۔ الجزیرہ کی تازہ رپورٹوں کے مطابق عمارت گرنے کے ساتھ ہی خوف و ہراس پھیل گیا اور درجنوں خاندان معمولی سامان کے ساتھ جان بچانے کی خاطر سڑکوں پر نکل آئے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب 15 منزلہ سوسی ٹاور اور مشٹاحہ ٹاور پہلے ہی میزائلوں کا نشانہ بن چکے تھے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان عمارتوں کو حماس عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہا تھا، تاہم اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ حماس نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
انخلا کے لیے دی جانے والی مہلت بھی انتہائی کم رہی۔ صرف 20 منٹ کا نوٹس ملنے کے بعد شہریوں میں افرا تفری پھیل گئی۔ ایک عینی شاہد نے سوسی ٹاور کے گرنے کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا:
"ہمیں سمجھ نہیں آیا کیا کریں… اچانک سب کچھ ختم ہوگیا اور ہم سڑک پر کھڑے تھے، ہر طرف افراتفری تھی۔”
اقوامی سطح پر کہا جا رہا ہے کہ یہ اقدامات فلسطینیوں کو مزید جنوب کی طرف دھکیلنے کی حکمت عملی ہیں، مگر غزہ کے شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کہاں جائیں؟ ایک اور متاثرہ شخص نے کہا:
"اب کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں بچی۔”
ہلاکتوں کی تعداد بھی انتہائی بھیانک ہے۔ صرف ہفتے کے روز ہی 56 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو امدادی مراکز پر جمع تھے، جو بظاہر محفوظ قرار دیے گئے تھے۔ لیکن اب یہ "محفوظ زونز” بھی بمباری کی زد میں ہیں، اور متاثرین کے مطابق اب نہ کوئی خیمہ محفوظ ہے، نہ گھر، نہ کوئی جائے پناہ۔ اس تباہی کے بیچ جنگ بندی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ حماس نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل جنگ ختم کر کے اپنی افواج واپس بلا لے تو وہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس تجویز پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔