لاہور: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر پاکستان کی بیوروکریسی کو نشانے پر لے لیا ہے، یہ بیان انہوں نے اس وقت دیا جب چند روز قبل اپنے سابقہ تبصرے سے سیاسی ہلچل پیدا کر دی تھی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید پوری سول سروس پر نہیں بلکہ اُن "25 سے 30 فیصد” افسران پر ہے جو ان کے بقول بدعنوانی میں ملوث ہیں۔
پیر کے روز ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں خواجہ آصف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سالانہ تقریباً 3.5 کھرب روپے بیوروکریسی پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بیوروکریٹ کی پوری ملازمت کے دوران ریاست اس پر اوسطاً 86 کروڑ روپے خرچ کرتی ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی ہی حکومت سے بیوروکریسی پر قانون سازی کا مطالبہ کریں گے۔ خواجہ آصف نے سول افسران کے لیے سالانہ اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا، "کسی اور شعبے میں اتنی بدعنوانی نہیں جتنی بیوروکریسی میں ہے۔”
وزیر دفاع نے دوہری شہریت کے قوانین میں موجود "واضح ناانصافی” پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا، "پاکستان میں سیاستدان، جج اور فوجی افسران دوہری شہریت نہیں رکھ سکتے، لیکن بیوروکریٹس کو یہ اجازت ہے۔ یہ خصوصی رعایت ختم ہونی چاہیے۔”
خواجہ آصف نے بیوروکریٹس کو ملنے والے "لا متناہی پلاٹوں کی الاٹمنٹ” پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سہولت کوئی پیدائشی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا گزشتہ بیان، جس میں انہوں نے کچھ بیوروکریٹس کے پرتگال میں جائیدادیں خریدنے کا ذکر کیا تھا، اس قدر ہنگامہ برپا کرے گا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر اب باقاعدہ تحقیقات ہو رہی ہیں اور انہوں نے اعلان کیا، "میں ان سب کو بے نقاب کروں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ عوام اب سول سروس میں بے لگام مراعات اور سہولتوں پر مزید خاموش نہیں رہیں گے