عمران خان کا نااہل نشستوں پر دوبارہ الیکشن نہ لڑنے کا اعلان، 14 اگست کو ملک گیر احتجاج کی کال

راولپنڈی – 7 اگست 2025:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سرپرست اعلیٰ عمران خان نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت ان نشستوں پر کوئی امیدوار نامزد نہیں کرے گی جو پارٹی کے نااہل قرار دیے گئے اراکین کے بعد خالی ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نااہلیاں "غیر قانونی اور سیاسی انتقام” کے تحت کی گئیں۔

یہ پیغام عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بدھ کے روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی دوسری بہن عظمیٰ خان کو سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔

علیمہ کے مطابق، عمران خان نے 5 اگست کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا، اور اسے ریاستی جبر کے باوجود عوام کی "جرأت مندانہ مزاحمت” قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر خیبرپختونخوا اور پنجاب میں عوام کے جذبے کو سراہا۔

عمران خان نے پاکستان کی ماضی کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ جبر تو جنرل یحییٰ خان کے دور میں بھی نہیں دیکھا گیا۔ اُس وقت بھی ملک کو صرف اقتدار کی خاطر توڑ دیا گیا تھا، اور آج میڈیا کو مکمل خاموش کرا دیا گیا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ آزادی ہمیشہ قربانی مانگتی ہے۔”

سابق وزیراعظم نے اب 14 اگست کو ایک اور ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سڑکوں پر نکلیں اور "حقیقی آزادی” اور "قانون کی حکمرانی” کے لیے آواز بلند کریں۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ گرفتاریوں یا مقدمات سے نہ گھبرائیں۔

ملاقات کے دوران عمران خان نے قبائلی علاقوں میں جاری سیکیورٹی آپریشنز پر بھی شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں جان بوجھ کر پی ٹی آئی کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل صرف جرگوں کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے، طاقت سے نہیں۔

عمران خان نے خیبرپختونخوا حکومت سے ان آپریشنز کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا، اور خبردار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور انہیں نہ روک سکے، تو پھر انہیں اپنے کردار اور ذمہ داری پر غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پارٹی ان نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی جو نااہل قرار دیے گئے اراکین کے بعد خالی ہوئیں، کیونکہ ان کے مطابق یہ سب فیصلے "غیر منصفانہ اور سازش کے تحت” کیے گئے۔ عمران خان کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر ملک گیر احتجاج کی کال نے سیاسی منظرنامے کو مزید گرما دیا ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک اور بڑے سیاسی تصادم کا آغاز ہونے والا ہے

More From Author

 زمینیں سکڑتی جا رہی ہیں، کسان مشکلات کا شکار — زرعی مردم شماری نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ہنر مند افرادی قوت کی برآمدات بڑھانے کے لیے اسحاق ڈار کی بڑے پیمانے پر اصلاحات کی اپیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے