کراچی: پاکستان میں آئندہ چند دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ توانائی اور مالیاتی ذرائع کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 27 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے، اور اس کا اثر اب براہِ راست پاکستانی صارفین پر پڑنے جا رہا ہے۔
ملک کی معروف مالیاتی مشاورتی کمپنی عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) کے مطابق، 13 جون سے اب تک گیس آئل (جو ڈیزل کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے) کی قیمت میں 9.6 فیصد اور گیسولین (جو پیٹرول کے لیے استعمال ہوتی ہے) کی قیمت میں 4.5 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
20 جون تک عالمی منڈی میں گیس آئل کی قیمت 93.3 امریکی ڈالر فی بیرل جبکہ گیسولین کی قیمت 83.4 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ پندرہ روزہ قیمتوں کے تعین میں حکومت ان اضافوں کو عوام تک منتقل کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ اضافہ سے مہنگائی کی ماری ہوئی پاکستانی معیشت کو مزید دھچکا لگے گا۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت پر براہِ راست اثر ڈالے گا، جس سے روزمرہ اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
تجزیہ کار اس صورتحال کو پاکستان کے ایندھن قیمتوں کے نظام کی عالمی منڈی پر انحصار کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں بین الاقوامی قیمتوں کے ساتھ منسلک ہیں، اس لیے دنیا میں کہیں بھی سیاسی یا معاشی عدم استحکام فوری طور پر مقامی صارفین کو متاثر کرتا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے واضح کیا ہے کہ یہ تجزیہ موجودہ عالمی رجحانات پر مبنی ہے، جبکہ حتمی فیصلہ اوگرا (OGRA) اور وفاقی حکومت کی آئندہ پندرہ روزہ پٹرولیم قیمتوں کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
فی الحال، عوام اور کاروباری حلقے قیمتوں کے اس ممکنہ طوفان کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کر رہے ہیں — اور دعا کر رہے ہیں کہ عالمی سیاسی درجہ حرارت کم ہو، تاکہ پیٹرول پمپ پر گرمی نہ چڑھے۔