کراچی – عالمی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد پاکستان میں بھی سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جب کہ غیر یقینی عالمی معاشی حالات اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونا خریدنا شروع کر دیا ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (APGJSA) کے مطابق، ملکی مارکیٹ میں فی تولہ سونا ایک ہی دن میں 5,400 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 15 ہزار 278 روپے پر جا پہنچا۔ اسی طرح 10 گرام سونا 4,629 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 56 ہزار 33 روپے میں فروخت ہوا۔
یہ ریکارڈ اضافہ عالمی منڈی کے رجحان کے عین مطابق ہے، جہاں فی اونس سونا تاریخ میں پہلی بار 3,900 امریکی ڈالر کی حد عبور کر گیا۔ صبح 0208 جی ایم ٹی کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں سپاٹ گولڈ 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 3,922.28 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہو رہا تھا، جب کہ سیشن کے دوران ایک موقع پر قیمت 3,924.39 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو گئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، بین الاقوامی ریٹ 3,940 ڈالر فی اونس رہا، جس میں 20 ڈالر کا پریمیم شامل ہے یوں ایک ہی دن میں 54 ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی کئی عالمی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں جاپانی کرنسی ین کی کمزوری، امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن کا خدشہ، اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے ممکنہ شرحِ سود میں کمی کی توقعات شامل ہیں۔ ان تمام عوامل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سونا خریدنے پر آمادہ کیا ہے۔
پاکستان میں چاندی کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے، جو 53 روپے اضافے کے بعد فی تولہ 4,949 روپے ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عالمی معیشت میں مہنگائی اور غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ سرمایہ کار دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور کرنسی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔