شاہراہِ بھٹو کا حصہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا، تعمیراتی معیار پر سوالات اٹھ گئے

کراچی:
ملیر ندی میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے زیر تعمیر شاہراہِ بھٹو کا ایک حصہ بہا دیا، جس سے سڑک میں کئی فٹ چوڑا اور گہرا شگاف پڑ گیا۔

مقامی افراد کے مطابق واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا جب ندی میں طغیانی آئی۔ پولیس نے فوری طور پر متاثرہ حصے کو رسیوں سے گھیر کر عام لوگوں اور گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ سڑک جام گوٹھ ڈیم کی بنیاد پر بغیر ضروری تبدیلی کے تعمیر کی گئی تھی۔ جب سیلابی ریلہ ڈیم سے ٹکرایا تو سڑک دباؤ برداشت نہ کرسکی اور چند منٹوں میں بہہ گئی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر کراچی کے کمزور انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر سنگین سوالات کھڑا کر رہا ہے۔

سیاسی ردعمل

متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے سڑک کے گرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کے "جعلی منصوبوں” کا نتیجہ قرار دیا۔

ایم کیو ایم رہنماؤں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو اور حال ہی میں افتتاح ہونے والی نئی حب کینال پہلی بارش کے دباؤ میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں۔ ان کے بقول:
"یہ منصوبے محض چند روز کی بارش بھی برداشت نہ کرسکے، جس سے کرپشن اور غفلت واضح ہوگئی ہے۔”

ایم کیو ایم نے نشاندہی کی کہ 12 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی نئی حب کینال بارہ ہفتے بھی نہ چل سکی اور ضلع غربی و کیماڑی کے عوام کو کسی فائدے کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان بڑے منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیں۔

More From Author

کراچی میں شہری سیلاب کی بڑی وجہ قبضے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

حکومت نے چار سال بعد نئی گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے