اسلام آباد/لاہور:
وزیرِاعظم شہباز شریف نے منگل کے روز متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں بڑھتے ہوئے پانی کے پیشِ نظر انخلا اور امدادی کارروائیوں کو فوری طور پر مزید تیز کیا جائے تاکہ متاثرہ اضلاع میں کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
وزیرِاعظم کی زیرِصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں دریاؤں کی بگڑتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ تمام ادارے مشترکہ اور فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی جائے، متاثرہ خاندانوں کا بروقت انخلا یقینی بنایا جائے اور انہیں خوراک، ادویات اور خیموں کی بلا تعطل فراہمی ممکن بنائی جائے۔
مزید برآں، وزیرِاعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت دی تاکہ ریلیف سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے۔
اب تک ایک لاکھ 90 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل
اجلاس میں بتایا گیا کہ پیشگی الرٹس اور وارننگ سسٹم کی بدولت دریائے ستلج کے کناروں سے رہائشیوں کا بروقت انخلا ممکن ہوا جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اب تک ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ نارووال سمیت دیگر اضلاع میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں قومی شاہراہ کے دو کلو میٹر طویل حصے پر پانی کھڑا ہے۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ستلج کے گنڈا سنگھ والا، راوی کے جیسٹر، چناب کے مرالہ اور ڈیک نالہ کے علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال ہے۔
این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی سرگرمیاں
این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے میڈیا کو بتایا کہ دریائے ستلج کے نشیبی علاقوں سے تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار افراد کو کامیابی سے نکالا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہا تو پنجاب کے بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے جس سے خطرات بڑھ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ “ہمارا آپریشنل فوکس دریائے چناب، راوی اور ستلج پر ہے، اور یہ انخلا پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ جاری ہے۔”
پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے اگلے 48 گھنٹوں میں ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی نالوں میں خطرناک سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا۔ ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے بتایا کہ متاثرین کے لیے عارضی ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں جہاں بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
لاہور میں ہائی الرٹ
لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے دریائے راوی میں ممکنہ طغیانی کے خدشے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ندی کے اطراف رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور میڈیکل کیمپس الرٹ کر دیے گئے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے صورتحال کی نگرانی کرے گا۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا، “ہم شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اعلانات پر اعتماد کریں۔”
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122 یا کنٹرول روم کے نمبر 0307-0002345 پر اطلاع دیں۔
این ڈی ایم اے کی بارشوں سے متعلق وارننگ
دوسری جانب، این ڈی ایم اے نے اگلے بارہ گھنٹوں میں پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ہیں۔
ترجمان کے مطابق، عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دریاؤں و ندی نالوں کے قریب جانے سے پرہیز کریں۔ مزید کہا گیا کہ ہنگامی الرٹس ٹی وی، ریڈیو، موبائل نوٹیفکیشنز اور این ڈی ایم اے کے "ڈیزاسٹر الرٹ” ایپ کے ذریعے جاری کیے جا رہے ہیں۔ ملک بھر میں آٹھویں مون سون اسپیل کے دوران متعلقہ ادارے مکمل الرٹ پر ہیں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں