پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی خاتون کی شادی اسے سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے مختص کوٹے کے تحت نوکری کے حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ یہ کوٹا ان سرکاری اہلکاروں کے بچوں کے لیے ہے جو دورانِ خدمت جاں بحق یا معذور ہو جائیں۔
جسٹس سید منصور علی شاہ نے دس صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ شادی کی بنیاد پر بیٹی کو وہ حق نہیں چھینا جا سکتا جو بیٹے کو اسی ضابطے کے تحت حاصل رہتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے خیبرپختونخوا سروس ٹربیونل کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جس میں ایک خاتون کی تقرری صرف اس وجہ سے منسوخ کر دی گئی تھی کہ وہ شادی شدہ تھیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اگر بیٹے کی شادی اس کے مالی حق پر اثر نہیں ڈالتی، تو بیٹی کے ساتھ مختلف سلوک کرنے کی کوئی آئینی بنیاد نہیں بنتی۔ ان کے مطابق ایسا امتیازی رویہ آئین کے آرٹیکل 25 اور 27 میں دیے گئے مساوات کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
یہ مقدمہ فرخ ناز سے متعلق تھا جن کی والدہ محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا سے بیماری کے باعث ریٹائر ہوئی تھیں۔ فرخ ناز کو معذور سرکاری ملازمین کے بچوں کے کوٹے پر پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر تعینات کیا گیا، تاہم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کرک نے ان کی تقرری منسوخ کر دی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ شادی شدہ بیٹیوں کو اس سہولت کا حق نہیں۔
فرخ ناز نے یہ فیصلہ خیبرپختونخوا سروس ٹربیونل میں چیلنج کیا، مگر درخواست مسترد ہو گئی۔ بعد ازاں انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں دو رکنی بینچ جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل — نے مقدمہ سنا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اس کوٹے کا مقصد وفات پانے یا معذور ہونے والے ملازم کے خاندان کی کفالت ہے، نہ کہ بچوں کی شادی یا مالی انحصار کو پرکھنا۔ جسٹس شاہ نے کہا کہ بیٹے اور بیٹی دونوں اپنے خاندان کی مدد میں برابر کردار ادا کر سکتے ہیں، اور یہ سوچ کہ شادی کے بعد بیٹی والدین کے خاندان کا حصہ نہیں رہتی، “فرسودہ اور نقصان دہ روایت” ہے۔
فیصلے میں خیبرپختونخوا اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے استعمال کی گئی توہین آمیز زبان پر بھی سخت تنقید کی گئی، جس میں شادی شدہ بیٹیوں کو اپنے والدین کی "ذمہ داری” سے آزاد قرار دیا گیا تھا۔ جسٹس شاہ نے اسے “انتہائی قابلِ مذمت اور پدرانہ ذہنیت کا مظہر” قرار دیا اور کہا کہ ایسے خیالات اس معاشرے میں جگہ نہیں رکھتے جو مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں پر قائم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا آئین مردوں اور خواتین کو برابر حقوق فراہم کرتا ہے اور ریاست کو خواتین کی فلاح و بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کا پابند بناتا ہے۔ قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو خواتین کے حقوق کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ شادی کسی خاتون کے روزگار یا حقِ مساوات میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔