کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے منشیات اسمگلنگ کے ایک بڑے مقدمے میں سزا یافتہ سید امین اللہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے تمام الزامات شک و شبہ سے بالا تر ہو کر ثابت کیے ہیں۔
امین اللہ کو مارچ 2021 میں کراچی کے علاقے گڈاپ سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں ان کی گاڑی سے 57 کلوگرام چرس برآمد ہوئی تھی۔ بعد ازاں ملیر کی سیشن عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
اپیل کے دوران امین اللہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ چرس کی برآمدگی کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، اور گواہوں کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ پیشگی اطلاع کے باوجود تلاشی کے وقت کوئی آزاد یا غیر جانبدار گواہ شامل کیوں نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے سزا کا دفاع کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ نے ٹھوس شواہد پیش کیے، جن میں کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ بھی شامل ہے جس میں ثابت ہوا کہ برآمد شدہ مواد واقعی چرس تھا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ضبط شدہ منشیات کی حفاظت اور قانونی طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد کیا گیا۔
دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس ظفر احمد راجپوت اور جسٹس تسنیم سلطانہ پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ گواہوں کے بیانات میں معمولی اختلافات استغاثہ کے مقدمے کو کمزور نہیں کرتے۔ عدالت نے کہا کہ کیس میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں، اور ملزم کے خلاف شواہد شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔
عدالت نے بالآخر اپیل خارج کرتے ہوئے سیشن عدالت کی طرف سے دی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا، اور کہا کہ مقدمہ مکمل طور پر ثابت ہو چکا ہے۔