سمندر میں المیہ: لیبیا کے ساحل کے قریب مہاجرین کی کشتی الٹنے سے 18 ہلاکتیں، 50 سے زائد لاپتہ

طبرق – 30 جولائی 2025:
یورپ پہنچنے کی امید لیے روانہ ہونے والے مہاجرین کا سفر افسوسناک انجام کو پہنچا، جب لیبیا کے مشرقی ساحلی شہر طبرق کے قریب ایک کشتی الٹ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد لاپتہ ہو گئے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق کشتی میں تقریباً 78 افراد سوار تھے، جن کا تعلق مختلف افریقی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے تھا۔ یہ افراد یورپ کی جانب روانہ تھے، لیکن بحیرۂ روم کے پانیوں میں کشتی الٹنے کے بعد اب تک صرف 10 افراد کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔

IOM کے ترجمان نے واقعے کو "انسانی المیے کی ایک المناک مثال” قرار دیا اور کہا کہ "یہ سانحہ ایک بار پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غربت، جنگ اور غیر یقینی حالات سے بچنے کی کوشش کرنے والے کس قدر خطرناک راستوں پر مجبور ہو جاتے ہیں۔”

عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق کشتی خستہ حال اور اس قسم کے سفر کے لیے غیر موزوں تھی۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں نے کارروائی کا آغاز کیا، لیکن لاپتہ افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

طبرق اور اس کے گردونواح کا علاقہ طویل عرصے سے ان غیرقانونی راستوں میں شامل رہا ہے جہاں سے تارکین وطن یورپ کی جانب سفر کرتے ہیں۔ انسانی اسمگلر اکثر مہاجرین کو ناقص کشتیوں میں سوار کر کے بھاری رقوم لیتے ہیں، مگر اکثر یہ سفر موت کا پیغام بن کر واپس آتا ہے۔

لیبیا کے کوسٹ گارڈ کے ایک اہلکار نے کہا:
"یہ صرف اعداد و شمار نہیں — یہ وہ انسانی زندگیاں ہیں جو دنیا کی بے حسی کا شکار ہو رہی ہیں۔ ہر لاش جو پانی سے نکالی جاتی ہے، کسی کا بیٹا ہے، کسی کی بیٹی، کسی کی امید۔”

IOM نے عالمی برادری سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ مہاجرت کے محفوظ، قانونی اور انسان دوست راستے فراہم کیے جائیں تاکہ لوگ اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہ ہوں۔

ادارے نے واضح الفاظ میں کہا:
"یہ بحران محض افسوس یا تعزیت سے حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے عالمی سطح پر مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ لوگ موت اور موت کے درمیان انتخاب پر مجبور نہ ہوں۔” اس واقعے کے بعد جب ریسکیو ٹیمیں طبرق کے ساحلی پانیوں میں لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی خیر خیریت کی دعاؤں میں مصروف ہیں۔ ان کے لیے نئی زندگی کا خواب، ایک بھیانک حقیقت میں تبدیل ہو چکا ہے

More From Author

 سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: طلاق یافتہ بیٹی باپ کی پنشن کی حقدار قرار

اسلام آباد کی کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ نے سرکاری نرخوں سے مہنگی چینی بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے