ریاض:
سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں ایک پاکستانی شہری کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملزم پر الزام ثابت ہو گیا تھا کہ وہ مملکت میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جو سعودی قوانین کے تحت سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ہی سعودی حکام نے ایک سعودی شہری کو دہشت گردی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں موت کی سزا دی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس شخص نے ایک دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی جس کا مقصد سعودی عرب کے امن و امان کو نقصان پہنچانا اور دہشت گرد کارروائیوں کی حمایت کرنا تھا۔
منشیات سے متعلق سخت سزائیں
سعودی عرب منشیات سے متعلق جرائم پر دنیا کی سخت ترین سزائیں نافذ کرتا ہے۔ قانون کے مطابق اگر کوئی شخص ہیروئن، کوکین یا دیگر نشہ آور اشیاء کی بڑی مقدار، یعنی 50 گرام سے زائد، کے ساتھ پکڑا جائے تو اسے سزائے موت سنائی جاتی ہے۔
چھوٹی مقدار میں منشیات رکھنے پر بھی سخت سزائیں دی جاتی ہیں جن میں کئی سال قید سے لے کر عشروں پر محیط سزائیں شامل ہیں۔ جیلوں میں قیدیوں کے لیے انتہائی سخت حالات بتائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات عدالتیں جرمانے بھی عائد کرتی ہیں، خصوصاً جب پہلی مرتبہ جرم کیا گیا ہو یا مقدار کم ہو۔
فوری قانونی کارروائیاں سعودی عرب میں منشیات کے مقدمات انتہائی تیزی سے نمٹائے جاتے ہیں۔ اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار افراد کے مقدمات عموماً ایک سے دو ہفتوں میں مکمل کر کے فیصلے نافذ کر دیے جاتے ہیں۔ حکام کی جانب سے ان جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے جس میں کسی رعایت کی گنجائش نہیں رکھی جاتی