اسلام آباد سے نامہ نگار کی رپورٹ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، شفافیت کو فروغ دینے اور مالی طور پر مستحکم بنانے کے حکومتی عزم کو ایک بار پھر دہرا دیا ہے۔
جمعے کو اسلام آباد میں سرکاری اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ان اداروں کے بزنس پلانز کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا اور ان کے آپریشنل مسائل کو بروقت حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے توانائی اور بجلی کے شعبوں میں اصلاحات پر خاص طور پر زور دیا اور کہا کہ حکومت سرکاری اداروں کے ڈھانچے میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور جوابدہی لانے کے لیے پرعزم ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جن اداروں کے بورڈز میں حکومت کے نمائندے موجود ہیں، وہ صرف علامتی حیثیت نہ رکھیں بلکہ سنجیدگی سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، حقائق پر مبنی فیصلے کریں اور اداروں کی مالی و انتظامی صحت کی بہتری میں بھرپور کردار ادا کریں۔
اجلاس میں وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے وفاقی سرکاری اداروں کی جولائی تا دسمبر کی کارکردگی پر مشتمل ششماہی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں ان اداروں کو درپیش اہم مسائل پر روشنی ڈالی گئی، جن میں مجموعی طور پر 5.8 ٹریلین روپے کے خسارے کا انکشاف بھی شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ سرکاری ادارے کس حد تک مالی بحران کا شکار ہیں اور فوری اصلاحات کی ضرورت کیوں ناگزیر ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ان اداروں کو بوجھ کے بجائے معیشت کا سہارا بنایا جائے — اور یہی سمت طے کرنے کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے