ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا میچ سنسنی خیز لمحات سے بھرپور رہا، مگر سب سے زیادہ بحث اُس وقت چھڑ گئی جب فخر زمان کو ایک متنازعہ کیچ کے بعد آؤٹ قرار دے دیا گیا۔
یہ فیصلہ فوری طور پر شائقین اور ماہرین کے درمیان اختلاف کا باعث بنا۔ ٹی وی ری پلے میں دکھائی جانے والی ویڈیوز میں واضح ثبوت سامنے نہیں آئے، لیکن اس کے باوجود تھرڈ امپائر نے آن فیلڈ امپائر کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس پر مداح اور تجزیہ کار دونوں ہی مایوس نظر آئے۔
میچ کے بعد کئی سابق کرکٹرز نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے موقعوں پر جب فوٹیج فیصلہ کن نہ ہو، تو شک کا فائدہ ہمیشہ بیٹر کو دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بھارت–پاکستان جیسے ہائی وولٹیج مقابلوں میں ایک غلط فیصلہ میچ کے توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔
مایوسی کی ایک اور وجہ ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔ جس کا مقصد تو شکوک دور کرنا ہے، لیکن اس بار اس نے مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ ناقدین کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ ویڈیو ریویو سسٹم میں اب بھی کئی خامیاں موجود ہیں، خصوصاً جب بات زمین کے قریب کیچز کی ہو۔
یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک اہم وکٹ کے نقصان کا باعث بنا بلکہ اس نے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا کہ کیا کرکٹ کی بڑی اور ہائی پروفائل سیریز میں ایسے فیصلوں سے بچنے کے لیے مزید مضبوط ریویو پروٹوکولز متعارف نہیں کرائے جانے چاہییں؟