سائنسدانوں نے بلیک ہول کی ارتعاشات میں چھپی "سُرلی سمفنی” دریافت کرلی

کیوٹو، جاپان – ماہرِ طبیعیات کی ایک ٹیم نے بلیک ہولز کی ارتعاشات میں چھپی ایک نہایت پیچیدہ "موسیقی کی دُھن” دریافت کی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ فلکیاتی دیو جب کائناتی تصادم یا کسی اور واقعے سے متاثر ہوتے ہیں تو وقت و مکان میں کس طرح گونج پیدا کرتے ہیں۔

بلیک ہول، جو کائنات کے سب سے پراسرار اجسام میں شمار ہوتے ہیں، اتنی شدید کششِ ثقل رکھتے ہیں کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہوسکتی۔ لیکن جب انہیں کوئی جھٹکا لگتا ہے تو وہ خاموشی سے نہیں بیٹھتے بلکہ مخصوص ارتعاشات پیدا کرتے ہیں جنہیں "کوازینارمل موڈز” کہا جاتا ہے۔ یہی ارتعاشات گریویٹیشنل ویوز یعنی ثقلی لہروں کی شکل میں باہر کی جانب پھیلتی ہیں اور زمین پر موجود رصدگاہیں ان مدھم سگنلز کو ریکارڈ کرکے بلیک ہول کے حجم، ماس اور گردش سے متعلق قیمتی معلومات حاصل کرتی ہیں۔

مدھم سگنلز کا سراغ
طاقتور بلیک ہول تصادم سے اٹھنے والی لہریں تو اب سائنسدانوں کو صاف سنائی دیتی ہیں، لیکن وہ کمزور سگنلز جو بہت جلد مدھم ہوجاتے ہیں، ہمیشہ ایک چیلنج رہے ہیں۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے کیوٹو یونیورسٹی کے محققین نے خالص ریاضی پر مبنی ایک غیر روایتی حکمتِ عملی اپنائی۔

انہوں نے "ونٹزل-کرامرز-بریلوئن” (WKB) کے عین مطابق تجزیے کا سہارا لیا، جو عموماً ریاضی میں پڑھایا جاتا ہے لیکن فلکیات میں کم ہی استعمال ہوا ہے۔ اس تکنیک کی بدولت سائنسدان بلیک ہول کی ارتعاشات کو بے مثال درستگی کے ساتھ ٹریک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

مرکزی محقق تائگا میاچی نے کہا:
"اس طریقۂ کار کی بنیاد جاپانی ریاضی دانوں نے رکھی تھی۔ ایک جاپانی محقق کے طور پر میرے لیے یہ نہ صرف سائنسی طور پر اہم تھا بلکہ ایک فکری اور ثقافتی تعلق بھی محسوس ہوا۔”

ریاضی میں چھپے سرپل
اس تجزیے کے دوران سائنسدانوں نے ایک حیران کن حقیقت دریافت کی: بلیک ہول کے گرد پیچیدہ سرپل نما ڈھانچے۔ یہ ان وقتوں میں سامنے آئے جب انہوں نے اپنے حسابات کو "کمپلکس نمبرز” کی دنیا تک پھیلایا۔ اس میں خاص کردار "اسٹوکز کروز” کا تھا، یعنی وہ ریاضیاتی راستے جہاں لہروں کی نوعیت اچانک بدل جاتی ہے۔

ماضی کی بیشتر تحقیق میں ان لامتناہی سرپل راستوں کو نظرانداز کر دیا گیا تھا، لیکن میاچی کی ٹیم نے انہیں اپنے تجزیے میں شامل کیا اور یوں بلیک ہول کی کمزور اور تیزی سے غائب ہونے والی لہروں کے ارتعاشی ڈھانچے کا مکمل نقشہ تیار کیا۔

کائناتی شور میں حسن
میاچی کے مطابق:
"ہم سب سے زیادہ حیران ان ڈھانچوں کی خوبصورتی پر ہوئے۔ جو سرپل نمونے سامنے آئے، وہ محض ریاضیاتی دلچسپی نہیں تھے بلکہ بلیک ہول کے ارتعاشات کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔”

یہ تحقیق صرف نظری ماڈلز کو مزید دلکش نہیں بناتی بلکہ عملی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ اس طریقے سے سائنسدان مستقبل میں ثقلی لہروں کے مدھم سگنلز کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے، جس سے بلیک ہول کی پیمائش مزید درست ہوگی اور کششِ ثقل کے نظریات کی جانچ کا نیا موقع ملے گا۔کائنات کو سمجھنے کی نئی راہ
یہ مطالعہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح خالص ریاضی کو فلکیاتی دریافتوں کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلیک ہولز کی "موسیقی” پہلے سے کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہے—ایک کائناتی سمفنی جو وقت و مکان کے تانے بانے میں سرایت کر رہی ہے

More From Author

پاک فوج کی ایک دن کی تنخواہ اور راشن سیلاب متاثرین کے نام

عدالتی تاخیر کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ نے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زور دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے