اسلام آباد — پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ ساتویں زرعی و لائیو اسٹاک مردم شماری نے دیہی پاکستان کی بدلتی ہوئی تصویر کو واضح کر دیا ہے — اور یہ تصویر نہایت تشویش ناک ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے 97 فیصد کسانوں کے پاس اب صرف 12.5 ایکڑ سے کم زمین موجود ہے۔ جبکہ اوسط زرعی رقبہ 2010 میں 6.4 ایکڑ تھا، جو 2024 میں گھٹ کر صرف 5.1 ایکڑ رہ گیا ہے۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے رپورٹ کی رونمائی کے موقع پر کہا کہ زمینوں کا سکڑنا ملکی معیشت کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا:
"یہ لمحہ فکریہ ہے۔ چھوٹے کسان جدید طریقے اپنا نہیں سکتے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر پیداوار ممکن ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ زراعت ہماری معیشت کا انجن بنے، تو ہمیں ان چھوٹے کسانوں کو سہارا دینا ہوگا۔”
زمین کی تقسیم: مسلسل بٹوارہ، بڑھتی محرومی
2010 میں 89 فیصد کسانوں کے پاس 12.5 ایکڑ سے کم زمین تھی، جو اب 97 فیصد ہو چکی ہے۔ یہ اضافہ وراثت میں زمین کی تقسیم اور اخراجات پورے کرنے کے لیے زمین بیچنے کے رجحان کے باعث ہوا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اب 61 فیصد کسانوں کے پاس 2.5 ایکڑ سے بھی کم زمین ہے — جو روایتی زراعت سے گھر چلانے کے لیے ناکافی ہے۔
مزید حیران کن اعداد و شمار کے مطابق، اب 26 فیصد کسانوں کے پاس صرف ایک ایکڑ یا اس سے بھی کم زمین ہے، جب کہ 2010 میں یہ تناسب صرف 15 فیصد تھا۔ دوسری جانب، ملک بھر میں صرف 16,958 افراد کے پاس 100 ایکڑ سے زائد زرعی زمین ہے، جو کُل زمین کا 6.2 فیصد ہے — ان کے پاس اوسطاً 215 ایکڑ فی کس زمین موجود ہے۔
ملکیت کے انداز: مزارعت کم، ذاتی کاشتکاری میں اضافہ
مردم شماری کے مطابق، اب 1 کروڑ 4 لاکھ فارم ذاتی ملکیت میں چل رہے ہیں، جو 2010 میں 67 لاکھ 40 ہزار تھے۔ اس کے برعکس، صرف 7 لاکھ 70 ہزار فارم کرایہ داروں (مزارعین) کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جب کہ 5 لاکھ 50 ہزار فارم مشترکہ (مالک+مزارع) ماڈل پر کام کر رہے ہیں۔ یہ رجحان دیہی علاقوں میں زمین کی ملکیت کی باقاعدہ شکل اختیار کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
پنجاب 51 لاکھ فارموں کے ساتھ سرفہرست ہے، لیکن یہاں گزشتہ 15 سال میں 2 لاکھ 17 ہزار فارم کم ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بے قابو پھیلاؤ ہے۔ خیبر پختونخوا میں 42 لاکھ، سندھ میں 18 لاکھ، اور بلوچستان میں 6 لاکھ 30 ہزار فارم رجسٹرڈ ہیں۔
آبپاشی اور کاشت: بڑھتی ہوئی زمین، غیر مساوی تقسیم
کاشت شدہ رقبہ 2010 میں 4 کروڑ 26 لاکھ ایکڑ تھا، جو 2024 میں بڑھ کر 5 کروڑ 28 لاکھ ایکڑ ہو چکا ہے۔ مجموعی زرعی رقبہ 5 کروڑ 93 لاکھ ایکڑ تک پہنچ چکا ہے۔ ان میں سے 4 کروڑ 59 لاکھ ایکڑ زمین آبپاشی سے مستفید ہو رہی ہے — جن میں نہری نظام سے سیراب ہونے والا رقبہ 1 کروڑ 44 لاکھ ایکڑ ہے۔ پنجاب اس میدان میں بھی سب سے آگے ہے، جہاں 2 کروڑ 71 لاکھ ایکڑ رقبہ آبپاشی کے زیر اثر ہے۔
دوسری جانب، بارانی (بارش پر انحصار کرنے والی) زمین میں نمایاں کمی آئی ہے — 2010 میں 84 لاکھ ایکڑ تھی جو اب صرف 49 لاکھ ایکڑ رہ گئی ہے۔ بلوچستان میں اب بھی قدیم آبی نظام جیسے "کاریز” اور "رود کوہی” کا استعمال جاری ہے۔
فصلوں کا رجحان: گندم کی برتری برقرار، کپاس زوال کا شکار
کاشت کا کُل رقبہ 2010 میں 6 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ تھا، جو اب بڑھ کر 8 کروڑ 28 لاکھ ایکڑ ہو گیا ہے۔ گندم کی کاشت میں معمولی اضافہ ہوا ہے — 42 فیصد سے بڑھ کر 43.3 فیصد۔ مکئی کی کاشت 4 فیصد سے بڑھ کر 5.1 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ چاول 12.9 فیصد پر آ گیا ہے۔
سب سے خطرناک رجحان کپاس کی کاشت میں دیکھا گیا — جو 2010 میں 14 فیصد تھی، اب صرف 7.9 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے اثرات ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پڑ سکتے ہیں۔ چقندر اور چارے کی کاشت میں معمولی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں — چارے کا حصہ 9 فیصد سے بڑھ کر 9.5 فیصد ہو گیا ہے۔
لائیو اسٹاک: خاموش معیشت کی دیوار
اکثر نظر انداز کی جانے والی لائیو اسٹاک کی صنعت اب زرعی معیشت کا 63.6 فیصد حصہ بن چکی ہے۔ 2024 میں پاکستان میں مویشیوں کی مجموعی تعداد 25 کروڑ 13 لاکھ ہو گئی ہے، جس میں سالانہ 3.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پنجاب 10 کروڑ 40 لاکھ جانوروں کے ساتھ سرِفہرست ہے، جن میں گائے، بھینس، گھوڑے اور گدھے شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 4 کروڑ 87 لاکھ جانور ہیں، جن میں 2 کروڑ 25 لاکھ بکریاں شامل ہیں۔ بلوچستان میں 4 کروڑ 79 لاکھ مویشی پائے جاتے ہیں، جہاں بھیڑوں کی تعداد 1 کروڑ 88 لاکھ ہے — جو وہاں کے پہاڑی ماحول اور خانہ بدوش طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
جنس کی بنیاد پر تفریق: خواتین کا کردار تسلیم شدہ نہیں
مردم شماری نے واضح کیا ہے کہ ملک کے 98.5 فیصد زرعی گھرانے مردوں کے زیرِ قیادت ہیں۔ اگرچہ خواتین زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں — خصوصاً بیج بونا، گوڈی کرنا، اور فصل کاٹنے میں — لیکن ان کی زمین کی ملکیت اور فیصلوں میں شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔
آگے کا راستہ: اصلاحات ناگزیر
2024 کی زرعی و لائیو اسٹاک مردم شماری پالیسی سازوں، ماہرینِ معیشت اور ترقیاتی اداروں کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں 4 کروڑ سے زائد افراد براہِ راست زراعت سے وابستہ ہیں، یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ زمین کے بٹوارے، آبپاشی، فصلوں کی منصوبہ بندی، اور کسانوں کی فلاح کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
جیسا کہ احسن اقبال نے کہا:
"ہمارے چھوٹے کسان اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر ہم اپنا اقتصادی مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں ان کا مستقبل محفوظ بنانا ہوگا۔”