ریکوڈک پاکستان کی سونے اور تانبے کی مارکیٹ میں 74 ارب ڈالر تک لا سکتا ہے

پاکستان کا ریکوڈک منصوبہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ بیرک گولڈ کے سی ای او مارک برسٹو کے مطابق یہ منصوبہ آئندہ 37 برسوں میں تقریباً 74 ارب ڈالر کا فری کیش فلو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اس ذخیرے کی وسیع اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

بیرک گولڈ اس منصوبے میں 50 فیصد شراکت دار ہے، جبکہ باقی نصف حصہ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ بلوچستان کے پاس ہے۔ یہ شراکت داری ریکوڈک کو ملک کے سب سے اہم معدنیاتی منصوبوں میں شامل کرتی ہے۔

منصوبے کی پیداوار 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سالانہ تقریباً دو لاکھ ٹن تانبہ نکالا جائے گا۔ کمپنی مستقبل میں منصوبے کی توسیع پر بھی غور کر رہی ہے، جس سے نہ صرف پیداوار بڑھے گی بلکہ کان کی عمر بھی مزید بڑھ جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ توسیعیں پاکستان کے لیے طویل مدت تک اضافی معاشی فوائد فراہم کریں گی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداواری عمل شروع ہوتے ہی حکومت کو ٹیکس، رائلٹی اور منافع کی مد میں خطیر آمدن ہو گی، جو مالی استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور مقامی روزگار میں اہم کردار ادا کرے گی۔

منصوبے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری بھی زیرِ غور ہے۔ اہم منصوبوں میں سے ایک پورٹ قاسم کی سہولیات میں توسیع ہے، جس کے ذریعے تانبے کے خام مال کی ترسیل اور برآمدات زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہوں گی۔ بہتر لاجسٹکس مقامی سطح پر بھی سامان کی نقل و حرکت کو آسان بنائیں گے۔

More From Author

پاکستان سے مکہ تک: آرگینک میٹ کمپنی کا سعودی عرب کے ساتھ 5.2 ملین ڈالر کا معاہدہ

پاکستان اور سعودی عرب کا پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام شروع کرنے پر اتفاق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے