واشنگٹن / کیف — جولائی 2025
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ یوکرین کو اضافی ہتھیار فراہم کرے گا، ایسے وقت میں جب روس یوکرین پر اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور جنگ شدت اختیار کر رہی ہے۔
"ہمیں مزید ہتھیار بھیجنے ہوں گے — بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کے ہتھیار،” ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ "انہیں بہت سخت نشانہ بنایا جا رہا ہے،” انہوں نے یوکرین پر ہونے والے حالیہ روسی میزائل اور ڈرون حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے امریکی حکومت نے بعض ہتھیاروں کی ترسیل عارضی طور پر معطل کرنے کی تصدیق کی تھی — جس پر یوکرینی حکام حیران رہ گئے تھے اور فوری وضاحت کے لیے متحرک ہو گئے تھے۔
یہ وقفہ یوکرین کے لیے نہایت نازک وقت پر آیا۔ روسی افواج نے حالیہ ہفتوں میں فضائی حملوں میں بے پناہ شدت لاتے ہوئے یوکرین کے فوجی مراکز، بنیادی ڈھانچوں، اور بھرتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ایسا لگتا ہے کہ ماسکو جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری میں مصروف ہے۔
پیر کے روز روس نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے یوکرین کے وسطی علاقے دنیپروپیٹروسک میں واقع گاؤں "داچنے” پر قبضہ کر لیا ہے — یہ علاقہ صنعتی و معدنی لحاظ سے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ روس کی اس خطے میں پہلی نمایاں پیش رفت ہوگی اور جنگ کی نئی جہت کی طرف اشارہ ہوگا۔
تاہم، کیف نے روسی دعوے کو مسترد کر دیا۔ یوکرینی فوج نے کہا ہے کہ اس نے دنیپروپیٹروسک کے کئی علاقوں میں، بشمول داچنے کے آس پاس، روسی حملے پسپا کیے ہیں اور روسی فوج کو علاقائی کنٹرول حاصل نہیں ہوا۔
یوکرینی فوجی تجزیہ کار اولیکسی کوپیتکو نے تسلیم کیا کہ دنیپروپیٹروسک میں صورتحال "مشکل” ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اس علاقے میں ایک حفاظتی بفر زون قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ یوکرین کی رسد اور مواصلاتی نظام کو درہم برہم کیا جا سکے۔
ایک ایسی جنگ جس کا اختتام واضح نہیں
صدر ٹرمپ اگرچہ بارہا امن مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے براہ راست بات چیت بھی کر چکے ہیں، لیکن جنگ بندی کے امکانات ہنوز معدوم ہیں۔ روسی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک یوکرین مزید علاقوں سے دستبردار نہیں ہوتا، جنگ بند نہیں ہوگی — اور کیف اس مطالبے کو قطعی مسترد کرتا ہے۔
ٹرمپ کی واپسی کے بعد سے اب تک ان کی انتظامیہ نے یوکرین کے لیے کسی نئے فوجی امدادی پیکج کا اعلان نہیں کیا، جس سے یوکرینی قیادت میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے یوکرین کو 65 ارب ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کی تھی۔
ٹرمپ حکومت کے دوران فوجی امداد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے باعث کچھ پروگرام معطل ہوئے یا مؤخر کر دیے گئے۔ تاہم، صدر کے پیر کے روز کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی لا رہا ہے۔
کیف کو اتحادیوں سے امیدیں وابستہ
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی پالیسی میں بدلتے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں فضائی دفاع ان کی پہلی ترجیح ہے۔ "ہمیں اپنے شراکت داروں سے مکمل تعاون کی توقع ہے جیسا کہ طے کیا گیا تھا،” انہوں نے زور دیا۔
منگل کی رات جنوبی یوکرینی شہر میکولائیو میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی حکام نے تصدیق کی کہ شہر کے مضافات میں روسی گولہ باری کے باعث آگ بھڑک اٹھی، جس میں ایک 51 سالہ شخص زخمی ہوا۔
ادھر یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس کے دارالحکومت ماسکو کے علاقے میں ایک اسلحہ فیکٹری پر ڈرون حملہ کیا ہے — جو کہ دشمن کے عقب میں اسٹریٹیجک اہداف کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور صورتحال روز بروز پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ میدان جنگ کی صورت حال کے ساتھ ساتھ امریکہ کی حکمت عملی میں بھی ارتعاش دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن سفارتی تعطل اور غیر یقینی عسکری پیش رفتوں کے بیچ، یوکرین اور اس کے اتحادیوں کے لیے آئندہ کا راستہ اب بھی دھندلا ہے