روزگار کے بحران نے شدت اختیار کی، 2025 کے پہلے چھ ماہ میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی ملک چھوڑ گئے

اسلام آباد — 7 اگست 2025

ملک میں جاری معاشی بدحالی اور روزگار کے بگڑتے ہوئے حالات کے باعث 2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار اس تشویشناک رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔

بیرون ملک جانے والوں میں محض مزدور یا نچلے درجے کے کارکن شامل نہیں بلکہ بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد، بالخصوص شعبہ صحت اور ٹیکنیکل فیلڈز سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز بھی ملک چھوڑ رہے ہیں۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹروں، نرسوں، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین کی ہجرت میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو پہلے سے دباؤ کا شکار پاکستان کے صحت اور عوامی خدمات کے نظام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ نرسنگ اسٹاف کی بڑے پیمانے پر بیرون ملک روانگی نے ملک کے مختلف اسپتالوں کو عملے کی شدید قلت سے دوچار کر دیا ہے۔

خاص طور پر دیہی علاقوں کے اسپتالوں میں ماہر طبی عملے کی کمی کے باعث علاج کی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔ متعدد طبی مراکز میں سروس کا معیار نیچے جا رہا ہے کیونکہ تجربہ کار افراد کی جگہ لینے والے عملے کی دستیابی نہایت محدود ہے۔

خلیجی ممالک، برطانیہ اور کینیڈا بدستور ہنر مند پاکستانیوں کی پہلی ترجیح بنے ہوئے ہیں۔ یہ ممالک بہتر تنخواہوں، محفوظ کام کی جگہوں اور مستقل سکونت کے امکانات کے باعث خاص طور پر پرکشش تصور کیے جاتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ ذہانت اور مہارت کا اخراج اسی رفتار سے جاری رہا تو اس کے دور رس اثرات پاکستان کی معیشت اور پبلک سروسز پر مرتب ہوں گے۔ ملک کی بحالی اور ترقی کا عمل بری طرح متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ وہ افراد جن پر یہ نظام انحصار کرتا ہے، وہ اب ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ حکومتی سطح پر اس مسئلے کا اعتراف موجود ہے، مگر مؤثر پالیسی یا عملی اقدامات اب تک سامنے نہیں آئے۔ فی الحال، ہر مہینے ہزاروں افراد کی روانگی اس افسوسناک حقیقت کو واضح کر رہی ہے کہ پاکستان کے ہنرمند شہری اپنے ہی ملک میں خود کو غیر محفوظ اور بے بس محسوس کر رہے ہیں — اور بہتری کی امید اب وہ سرحد پار تلاش کر رہے ہیں

More From Author

پاکستانی پروفیشنل گوگل میں گیمز اور موبائل ایپس کے لیے انڈسٹری ہیڈ مقرر

 کراچی میں جرائم کی لہر برقرار: جولائی میں 3,500 سے زائد موٹرسائیکلیں اور 1,600 موبائل فون چھین لیے گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے